غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
روس کے اس فیصلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ کئی ممالک اپنی توانائی ضروریات کیلئے روسی ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، ان ممالک میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے متعدد ممالک شامل ہیں، جہاں اس فیصلے کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
روسی حکومت اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ بنانا چاہتی ہے تاکہ ملک کے اندر توانائی کی دستیابی برقرار رہے اور عوام کو سستے پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ کیلئے کیا گیا ہے، روس میں زرعی سرگرمیوں کے موسم اور ریفائنریز کی دیکھ بھال کے دوران پیٹرول کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کے باعث اس اقدام کی ضرورت پیش آئی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے دس اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی
اگرچہ یہ پابندی یوریشین اقتصادی اتحاد کے رکن ممالک اور خصوصی معاہدوں کے حامل ممالک پر لاگو نہیں ہوگی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑیں گے۔