تازہ ترین عالمی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی بڑھتے ہوئے 88 ڈالر فی بیرل کی سطح تک جا پہنچی ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک میں پیٹرول کے مجموعی ذخائر کی گنجائش تقریباً 5 لاکھ 46 ہزار 940 میگاٹن ہے جبکہ اس وقت پاکستان کے پاس موجود ریزرو اسٹاک تقریباً 4 لاکھ 91 ہزار 952 میگاٹن ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ذخائر ملک کی ضروریات کو وقتی طور پر پورا کرنے کے لیے کافی ہیں اور فوری طور پر کسی بڑے بحران کا خطرہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ ممالک کی مزید 106 پروازیں منسوخ
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی یومیہ طلب تقریباً 18 ہزار 27 میٹرک ٹن ہے۔ موجودہ صورتحال میں ملک کے پاس موجود پیٹرولیم ذخائر تقریباً 30 دن کی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا یا مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طویل ہو گئی تو پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو مزید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزراء نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اضافے کے بعد ملک میں پیٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی جبکہ ڈیزل کی قیمت 275 روپے 70 پیسے سے بڑھ کر 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے اور ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام آئے گا، ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔