رپورٹس کے مطابق پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو پیر سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔
ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل چوہدری عرفان الٰہی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی 50 فیصد تک گر گئی اور ڈیزل کی فراہمی معمول سے صرف 20 فیصد رہ گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
لاہور کے صدر جہانزیب ملک اور وسطی پنجاب کے صدر نعمان مجید کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریٹیل آؤٹ لیٹس کو پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ معائنے کے نام پر سپلائی ڈپوؤں کے بجائے پیٹرول پمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بعض نجی کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کی جا سکے۔
ذہن نشین رہے کہ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر مطلع کیا تھا کہ سپلائی محدود ہونے کی وجہ سے وہ عوام کی طلب پوری کرنے میں ناکام ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کاسلسلہ جاری ہے اورقیمت84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، چین نے بھی ملک کی بڑی ریفائنریز کو ڈيزل اور پیٹرول کی برآمدات روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع
امریکی میڈیا کے مطابق جاپان، انڈونیشیا اور بھارت سمیت کئی ممالک ریفائنریز کی پیداوار میں کمی اور برآمدات عارضی طور پر معطل کر چکے ہیں ۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد دنیا بھر میں تیل کی سپلائی معطل ہوگئی ہے اور اقوام متحدہ نے بھی عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے سے پیداہونےوالی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔