ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی
Oil Prices Surge
فائل فوٹو
لاہور: (ویب ڈیسک) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی شدید بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 83 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

دوسری جانب غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں، جس کے باعث سونے کی قیمت میں بھی تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سونے کی فی اونس قیمت 88 ڈالر اضافے کے بعد 5176 ڈالر ہو گئی ہے، جو حالیہ دنوں کی نمایاں سطح سمجھی جا رہی ہے۔

ادھر عالمی حصص بازار بھی دباؤ میں ہیں، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کورین اسٹاک ایکسچینج میں 6 فیصد جبکہ جاپان کے حصص بازار میں 3 فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی بے چینی کے باعث فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران اب تک خلیجی ممالک پر کتنے میزائل داغ چکا؟

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو عالمی منڈیوں میں عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات تیل، سونا اور حصص بازاروں پر بدستور مرتب ہوں گے۔

ضرور پڑھیں