آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 5300 روپے اضافے کے بعد سونا5 لاکھ 24 ہزار 762 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو 4544 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 49 ہزار 898 روپے ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا بڑھنا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 53 ڈالر اضافے کے بعد 5020 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طرف رجحان، قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عید پر نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ ملیں گے یا نہیں؟
مقامی صرافہ بازاروں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی بھی سونے کی قیمت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو درآمدی اشیا کے ساتھ ساتھ سونا بھی مہنگا ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ تاجروں کے مطابق اگر عالمی منڈی میں یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث طلب میں اضافہ اور قیمتوں میں تیزی آتی ہے۔ تاہم عام صارفین کے لیے یہ اضافہ ایک معاشی دباؤ کی علامت بن چکا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھیں اور عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔