اعداد و شمار کے مطابق 100 روپے کے 1 ارب 48 کروڑ 60 لاکھ نوٹ زیر استعمال ہیں، 50 روپے کے نوٹوں کی تعداد 1 ارب 79 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے، جبکہ 20 روپے کے نوٹوں کی تعداد 71 کروڑ 60 لاکھ سے زائد ہے۔ مارکیٹ میں 10 روپے کے 5 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ سے زائد نوٹ گردش کر رہے ہیں، جبکہ 75 روپے کے 16 کروڑ 60 لاکھ سے زائد نوٹ بھی زیر گردش ہیں۔ مارکیٹ میں زیر استعمال 5 ہزار روپے کے نوٹوں کی مجموعی مالیت 49 کھرب 50 ارب روپے سے زائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپٹو کرنسی صارفین کے لیے بڑی خبر
ایک ہزار روپے کے نوٹوں کی مالیت 31 کھرب 92 ارب روپے ، 500 روپے کے نوٹوں کی مالیت 8 کھرب 19 ارب 50 کروڑ روپے، 100 روپے کے نوٹوں کی مالیت 1 کھرب 48 ارب 60 کروڑ روپے اور 50 روپے کے نوٹوں کی مالیت 89 ارب 90 کروڑ روپے ہے۔
20 روپے کے نوٹوں کی مالیت 14 ارب 32 کروڑ روپے جبکہ 10 روپے کے نوٹوں کی مالیت 56 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ 5 ہزار سے 10 روپے تک زیر گردش کرنسی نوٹوں کی مجموعی تعداد 15 ارب 64 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ہے۔ ماہرین کے مطابق
کرنسی نوٹ تبدیل کرنے سے معیشت کو دستاویزی بنانے، جعلی نوٹوں کے خاتمے ، کرنسی اِن سرکولیشن کو محدود کرنے اور کالے دھن پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بینکاری نظام میں رقوم جمع ہوں گی اور لین دین کا ریکارڈ بہتر ہونے سے شفافیت بڑھے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی نوٹوں کی تبدیلی سے عوام کو وقتی مشکلات، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور قلیل مدت کے لیے معیشت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق حکومت اس تمام عمل کو بہتر اور مناسب منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔