لیوی ٹیکس احتجاج سے لانگ مارچ کی کہانی

 حکومت کے اپنے اعدادوشمار شمار کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک یعنی مالی سال کے 9 ماہ میں پٹرولیم لیوی سے 12 کھرب روپے سے زائد اکھٹے کیے۔ دوسری جانب عوام مہنگائی کی وجہ سے شدید پریشان ہے۔ وہ ایک وقت کی روٹی کھانے کے لیے بھی ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ حکومت نے حافظ کو شاید ہلکا لیا اور اسے اسلام آباد لانگ مارچ کرنے اور اپنی سیاسی اننگ کھیلنے کا بڑا موقع دے دیا۔ 
 
اس وقت جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ٹرین کےذریعے سندھ کی حدود سے نکل کر پنجاب میں داخل ہوچکا ہوگا۔ حکومت اب پہ درپے مذاکرات کررہی ہے لیکن مذاکرات کے اب تک کے تمام دور ناکام رہے ہیں۔ ادھر حکومت نے بھی اسلام آباد کو بند کرنا شروع کردیا ہے ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اگر کسی نے لانگ مارچ سے اسلام آباد بند کرنے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔ کہا جائے کہ ابھی سے ہی اسلام آباد کو کنٹینر لگا کر بند کیا جارہاہے۔ خطے میں اس وقت ایران امریکا جنگ نے پوری دنیا کو پریشاں کردیا ہے وہیں تیل کی قیمتین بڑھنے سے حکومت کو بھی معاملات چلانے کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا یے۔ حکومت نے اپنے ریونیو میں اضافے اور اخراجات پورا کرنے کا حل پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس بڑھا کر نکال لیا لیکن غریب عوام پر رحم کھانے کے بجائے اسے جاری رکھا۔ خطے میں اس وقت پاکستان میں پٹرول پر ٹیکس سب سے زیادہ ہے۔ 
 
حکومتی وزرا کی پریشانیاں بھی بڑھ رہی ہیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد بند ہونے سے یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ملک کو ہوگا۔ لیکن اسکے باوجود آپ لیوی ٹیکس میں ایک روپیہ کم کرنے کو تیار نہیں اشرافیہ جس کا ڈیٹا ایف بی آر کے پاس ہے سرمایہ دار خود کو خسارے میں دکھا کر ٹیکس چھوٹ لیتا ٹیکس ادائیگی نہیں کرتا۔ لیکن غریب عوام تںخواہ دار طبقے پر ٹیکس پر ٹیکس عائد ہونے سے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ 
 
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے تو بڑا بیان داغ دیا ہے کہ اگر انکے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا تو یہ لانگ مارچ حکومت کے خاتمے کا لانگ مارچ ہوگا۔ بہرحال میں نے خود بھی لانگ مارچ احتجاج سیاسی دھرنوں کو کور کیاہے۔ بلکہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم، ن لیگ جماعت اسلامی پی ٹی آئی جے یو آئی جی ڈی اے سمیت ہر جماعت کی کوریج کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بات کو اس نہج پر پہنچے سے بہت پہلے لچک دکھاتی اور لیوی ٹیکس میں کچھ حد تک کمی کرکے ریلیف عوام پٹرولیم مصنوعات میں دیتی۔ اس سے حکومت اور جماعت اسلامی دونوں کی ون ون سیچوایشن ہو جاتی لیکن اب کھینچا تانی والی صورتحال ہوچکی ہے یعنی سیاسی عدم استحکام کی طرف ملک جارہا ہے جہاں حکومت کا ایک وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر شیخ خود کراچی پریس کلب میں کھڑے ہوکر صحافیوں سے گفتگو میں یہ کہے کہ انہی کی جماعت کا وزیراعظم انہیں وقت نہیں دے رہا اور وہ یہ مانتے ہیں کہ حکومت ایکسپورٹ بڑھانے اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے میں ناکام ہے اسے کئی چیلنجز ہیں۔ اس کے بعد اگر سیاسی عدم استحکام ہوا تو اس سے ملک کو مزید معاشی سیاسی اور سیکورٹی سطح پر بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا۔ 
 
یہ تو حقیقت ہے کہ جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ہوگی وہاں سرمایہ کاری آنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت کے پاس آپشن کیا صرف پکڑ دھکڑ لانگ مارچ روک کر لاٹھیاں برسا نا ہے تو یہ کوئی اچھی پالیسی بہرحال نہیں ہوگی۔ اسی سیاسی عدم استحکام سے روانہ اربوں روپے کا نقصان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو سہنا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پٹرول، جہازوں کا ایندھن جیٹ فیول کی قیمت یکم اگست کو 320 روپے لیٹر تھی پٹرول 336 روپے لٹر ڈیزل 285 روپے لٹر مٹی کا تیل 305 روپے لٹر تھا جو 19 ستمبر تک جیٹ فیول 56 روپے اضافے کے بعد 376 پٹرول 53 روپے اضافے کے بعد 389 روپے ڈیزل کی قیمت تقریبا 20 روپے بڑھ کر 305 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 42روپے مہنگا کرکے 347 روپے فی لٹر ہوچکا ہے۔ یہ اعداد شمار بھی حکومت کے ہیں۔ 
 
اسٹیٹ بینک نے بھی ایران امریکا جنگ خطے کی صورتحال اور مہنگائی کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کئی ماہ سے اپنی محتاط مانیٹری پالیسی کا فیصلہ کرتے ہوئے شرح سود کو ساڑھے گیارہ فیصد پر برقرار رکھتی آرہی ہے حالیہ نئی مانیٹری پالیسی میں بھی یہی ذکر ہے اور کہا ہے کہ ملک سے ایکسپورٹ کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ 
 
اس ساری صورتحال کے پیش نظر حکومت نے حافظ کو ہلکا کیوں لیا اور ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف چڑھائی بلکہ یوں کہیے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کو بطور امیر اپنے سیاسی کیریئر کا پہلا لانگ مارچ کرنے کا موقع دے دیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اسلام آباد کی طرف چڑھائی کا اعلان کیا ہے۔  بہرحال ملکی سیاسی عدم استحکام سے معیشت کو نقصان تو ہوگا لیکن حکومت نے پٹرولیم لیوی جسے جماعت اسلامی بھتہ ٹیکس جگا ٹیکس کالا ٹیکس کہتی ہے اس پر حکومت اور بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف نے ریلیف نہیں دیا 130 روپے لیوی پٹرولیم مصنوعات کے مہنگے ہونے کی اصل وجہ ہے اس سے نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی بلکہ کھانے پینے کی ہر چیز مہنگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حافظ کو ہلکا لینے والی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام سے ملک اور عوام کو نقصان ہوگا ۔ دوسری جانب ملک کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی غور سے صورتحال کاجائزہ لے رہی ہے اور دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ وہیں ایم کیو ایم نئے صوبوں کے شوشے پر ریلیاں نکال رہی ہے۔ ہر سیاسی جماعت بہرحال اپنی سیاسی منصوبہ بندی کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ کتنا موثر اور کامیاب ہوتا ہے یہ بہرحال حافظ کا بھی بڑا امتحان ہوگا، ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ اس ساری صورتحال کو بڑے غور سے مانیٹر کر رہی ہے۔

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 276.82
🇪🇺 Euro EUR → PKR 317.96
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 370.52 ▼ 0.10
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.67
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.38
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.33
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 455,135 ▲ 2,603
Gold 22K Per Tola 417,207 ▲ 2,387
Gold 21K Per Tola 398,243 ▲ 2,278
Gold 18K Per Tola 341,351 ▲ 1,953
Silver Per Tola 6,886 ▲ 74
Platinum Per oz (USD) 1,805 ▲ 25.1%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 389.14
Diesel HSD Per Litre 304.78
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 347.32
LPG Per Kg 258.65
ضرور پڑھیں