مقبوضہ کشمییر، بھارت کی وعدہ خلافی

اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد خطے کی سیاسی، سماجی اور انسانی صورتِ حال تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ اس فیصلے نے کشمیریوں کو ان کے حقِ خود ارادیت سے مزید دور کر دیا۔

 خون میں لتھڑا ہوا منظرنامہ 
 
اس آئینی اقدام کے بعد سے اب تک 1050 سے زائد کشمیری جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان میں 22 خواتین اور 45 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے گھروں، اجڑے ہوئے خاندانوں اور سسکتی ہوئی انسانیت کی تصویر ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک کہانی ہے جو کبھی سنائی نہیں جاتی۔
 
 جعلی مقابلے اور حراستی قتل 
 
رپورٹس کے مطابق 287 افراد کو دورانِ حراست یا محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا۔ یہ وہ افراد تھے جو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیے جانے چاہییں تھے، مگر انہیں گولیوں سے خاموش کرا دیا گیا۔ ایسے واقعات نے انصاف کے پورے نظام کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
 
 قید میں شہادت پانے والی قیادت 
 
کشمیر کی مزاحمتی قیادت بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ معروف حریت رہنما سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ اور غلام محمد قید کے دوران انتقال کر گئے۔ ان اموات کو محض طبعی کہنا حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے، کیونکہ انہیں مناسب طبی سہولیات تک فراہم نہیں کی گئیں۔
 
پرامن مظاہرین پر تشدد
 
بھارتی فورسز نے پرامن مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ آنسو گیس، پیلٹ گنز اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں 2660 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان میں سے کئی نوجوان مستقل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے۔ احتجاج کرنا جرم بنا دیا گیا اور آواز اٹھانا خطرہ بن چکا ہے۔
 
گرفتاریوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ
 
گزشتہ چند برسوں میں 33 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں حریت رہنما، طلبہ، صحافی، علما اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ بیشتر افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت مقدمات بنائے گئے، جن میں برسوں تک بغیر مقدمہ چلائے قید میں رکھا جا سکتا ہے۔
 
 گھروں کی مسماری اور اجتماعی سزا
 
کارروائیوں کے دوران 1168 گھروں اور دیگر ڈھانچوں کو تباہ کیا گیا۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں بلکہ لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی اور یادیں تھیں۔ کسی ایک فرد کے الزام کی سزا پورے خاندان اور محلے کو دی گئی۔ یہ اجتماعی سزا کا وہ طریقہ ہے جس کی عالمی قوانین میں کوئی گنجائش نہیں۔
 
 خواتین کی بے حرمتی
 
رپورٹس کے مطابق 139 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ وہ پہلو ہے جس پر کم بات کی جاتی ہے، مگر اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔ خواتین کو خوف، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے پورے معاشرے میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو گئی۔
 
 کشتواڑ میں طویل آپریشن 
 
جموں خطے کے ضلع کشتواڑ میں تلاشی آپریشن پندرہ دن سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ ہیلی کاپٹروں، ڈرون کیمروں اور سراغ رساں کتوں کے استعمال نے مقامی آبادی کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں، روزگار رکا ہوا ہے اور خوف ہر دل میں بیٹھا ہوا ہے۔
 
 انسانی حقوق کی عالمی خاموشی
 
سب سے افسوسناک پہلو عالمی برادری کی خاموشی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے، جو دنیا کے دیگر خطوں میں سرگرم نظر آتے ہیں، کشمیر کے معاملے پر محض بیانات تک محدود ہیں۔ یہ خاموشی ظالم کو مزید حوصلہ اور مظلوم کو مزید تنہا کر دیتی ہے۔
 
 میڈیا پر قدغنیں 
 
کشمیر میں آزاد صحافت تقریباً ناممکن بنا دی گئی ہے۔ صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، ان پر مقدمات بنتے ہیں اور سچ بولنے کی قیمت قید یا خاموشی ہے۔ جب سچ سامنے نہ آئے تو ظلم کو چھپانا آسان ہو جاتا ہے۔
 
نوجوان نسل کا مستقبل
 
مسلسل کرفیو، انٹرنیٹ بندش اور تعلیمی اداروں کی بندش نے کشمیری نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایک پوری نسل ذہنی دباؤ، بے روزگاری اور مایوسی کا شکار ہو رہی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔
 
امن کی راہ کہاں سے گزرے گی 
 
کشمیر میں پائیدار امن طاقت کے زور پر ممکن نہیں۔ امن انصاف، مکالمے اور عوامی خواہشات کے احترام سے آتا ہے۔ جب تک کشمیریوں کو سنا نہیں جائے گا، زخم بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
 
 ضمیر کا امتحان 
 
کشمیر کا مسئلہ آج صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر دنیا نے آج آنکھیں بند رکھیں تو کل یہ ظلم کہیں اور بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ سچ بولنا، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور مظلوم کے ساتھ آواز ملانا ہی اصل انسانیت ہے۔