کشمیر کو دنیا جنت کہتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں اور بہتے چشمے اس کی پہچان ہیں۔ مگر اس خوبصورتی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ یہ وادی کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور خون کی گواہ ہے۔ یہاں کی خاموشی دراصل خوف اور دکھ کی خاموشی ہے، جسے دنیا اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔
کپوارا ایک پُرامن شہر
کپوارا مقبوضہ جموں و کشمیر کا ایک نسبتاً چھوٹا مگر پُرامن ضلع ہے۔ یہاں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ تاجر، طالب علم، مزدور اور کسان اپنی روزمرہ کی جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ 1994 سے پہلے کپوارا بھی دیگر کشمیری شہروں کی طرح ایک عام سا علاقہ تھا، مگر ایک دن نے اس کی تاریخ بدل دی۔
جنوری 26 کا پس منظر
26 جنوری بھارت میں یومِ جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مگر مقبوضہ کشمیر میں اس دن کو کشمیری عوام یومِ سیاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 1994 میں بھی کشمیریوں نے اس دن مکمل ہڑتال کی۔ بازار بند تھے، سڑکیں سنسان تھیں اور عوام نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا تھا۔
ستائیس جنوری 1994: خون آلود صبح
26 جنوری کے اگلے دن، یعنی 27 جنوری 1994 کی صبح، کپوارا میں حالات بظاہر معمول کے مطابق تھے۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل رہے تھے۔ اچانک بھارتی فوج کے دستے شہر میں داخل ہوئے۔ بغیر کسی واضح وارننگ، فائرنگ شروع کر دی گئی۔ یہ فائرنگ کسی جھڑپ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ سیدھا عام شہریوں پر کی گئی۔
نہتے شہری نشانہ بنے
فائرنگ کے وقت متاثرین نہ تو مسلح تھے اور نہ ہی کسی تصادم میں شامل۔ دکانوں پر بیٹھے تاجر، دفاتر جانے والے ملازمین اور سڑک پر چلتے عام لوگ گولیوں کا نشانہ بنے۔ چند لمحوں میں کپوارا کی گلیاں چیخوں اور خون سے بھر گئیں۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔
شہادتیں اور زخمی
اس واقعے میں کم از کم 27 کشمیری شہری شہید ہوئے، جبکہ درجنوں شدید زخمی ہوئے۔ کئی زخمی ایسے تھے جو زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بچوں نے اپنے باپ اور خاندانوں نے اپنے سہارا دینے والے افراد۔
ریاستی مؤقف اور تضاد
بھارتی حکام نے ہمیشہ کی طرح اس واقعے کو “غلط فہمی” یا “ہجوم کے بے قابو ہونے” کا نتیجہ قرار دیا۔ مگر عینی شاہدین اور مقامی لوگوں کے بیانات اس مؤقف کی نفی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہجوم بے قابو بھی ہو تو کیا نہتے شہریوں پر گولی چلانا جائز ہے؟
تحقیقات کا انجام
واقعے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ تحقیقات ہوئیں اور مختلف رپورٹس سامنے آئیں۔ کچھ سرکاری رپورٹس میں فائرنگ کو غیر ضروری قرار دیا گیا، مگر اس کے باوجود کسی فوجی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔ بالآخر چند سال بعد کیس بند کر دیا گیا، اور انصاف ایک بار پھر دفن ہو گیا۔
انصاف کا نہ ملنا
کپوارا کے متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی ذمہ دار قانون کے کٹہرے میں نہیں آیا۔ یہ صرف کپوارا کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے کشمیر کا المیہ ہے، جہاں انسانی جان کی قیمت بہت کم سمجھی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کا سوال
کپواڑہ قتل عام انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔عالمی قوانین کے مطابق نہتے شہریوں کا قتل جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے کشمیر میں ایسے واقعات پر نہ عالمی برادری سنجیدگی دکھاتی ہے اور نہ ہی طاقتور ریاستوں پر کوئی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
عالمی خاموشی
دنیا کے بڑے انسانی حقوق کے ادارے رپورٹس تو شائع کرتے ہیں، مگر عملی اقدامات کم ہی نظر آتے ہیں۔ میڈیا بھی اکثر ان واقعات کو وقتی خبر بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کپوارا جیسے سانحات تاریخ کے اوراق میں دب جاتے ہیں۔
کپوارا ایک علامت
کپوارا صرف ایک شہر کا نام نہیں رہا۔ یہ اب ایک علامت ہے۔ ایک ایسی علامت جو ریاستی جبر، بے حسی اور ناانصافی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر میں مسئلہ صرف سیاست کا نہیں، انسانیت کا بھی ہے۔
یاد رکھنا کیوں ضروری ہے
اگر ہم کپوارا کو بھول جائیں گے تو ظلم کو جیتنے دیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھلائے گئے مظالم دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان واقعات کو یاد رکھیں، ان پر بات کریں اور سچ دنیا کے سامنے لائیں۔
سوال جو زندہ ہے
کپواڑہ قتل عام آج بھی ایک سوال ہے۔ یہ سوال کشمیری عوام پوچھ رہے ہیں، اور دنیا سے پوچھ رہے ہیں۔ انصاف کب ملے گا؟ کب انسانی جان کی قدر تسلیم کی جائے گی؟ جب تک یہ سوال زندہ ہے، کپوارا زندہ ہے، اور کشمیر کی جدوجہد بھی زندہ ہے۔