کشمیر: حقِ خود ارادیت کی ناقابلِ شکست جدوجہد
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی محض ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ گیر جدوجہد ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں، عالمی قوانین اور انسانی فطرت کے بنیادی اصولوں سے جڑی ہوئی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کا حالیہ بیان اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ کشمیری عوام اپنی قربانیوں، صبر اور استقامت کے ذریعے اس جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں، چاہے بھارت جبر، تشدد اور سازشوں کے کتنے ہی حربے کیوں نہ آزما لے۔
تحریکِ آزادی کی گہری اور مضبوط جڑیں
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے درست طور پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کی جڑیں انتہائی گہری ہیں۔ یہ جڑیں صرف سیاسی شعور تک محدود نہیں بلکہ تاریخ، شناخت، ثقافت اور اجتماعی یادداشت سے پیوست ہیں۔ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے فوجی طاقت، کالے قوانین اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ان جڑوں کو کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ہر بار کشمیری عوام کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔
بھارتی جبر اور آزادی کا ناقابلِ تسخیر جذبہ
بھارت کی جانب سے مسلط کردہ فوجی محاصرہ، پیلٹ گنز، جعلی مقابلے، جبری گمشدگیاں اور سیاسی قیادت کی قید و بند اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی سے خائف ہے۔ اگر یہ تحریک کمزور ہوتی تو سات لاکھ سے زائد فوج کی ضرورت پیش نہ آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی جبر کشمیریوں کے حوصلے توڑنے کے بجائے ان میں مزید مزاحمت اور قربانی کا جذبہ پیدا کر رہا ہے۔
جنوبی ایشیا میں امن اور مسئلہ کشمیر
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ دیرینہ تنازعہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو ان کا اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت نہیں دیا جاتا، اس خطے میں کشیدگی، بداعتمادی اور تصادم کے امکانات برقرار رہیں گے۔
عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی
کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے منافقانہ طرزِ عمل، ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ انسانی حقوق کے دعوے دار عالمی ادارے اور طاقتیں کشمیر کے معاملے پر مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہ خاموشی درحقیقت بھارت کو مزید جبر کی کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے، جس کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
معاشی دباؤ: ایک نیا ہتھیار
سری نگر اور اس کے نواحی علاقوں میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے خلاف بھارتی پولیس کا حالیہ کریک ڈاؤن ایک نئی مگر خطرناک حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ بھاری جرمانوں اور کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کو معاشی طور پر مفلوک الحال بنانا بھارت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد عوام کو روزگار، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں سے محروم کر کے ان کی اجتماعی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔
سیاحت کے نام پر استحصال
بھارت ایک طرف دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں اور سیاحت فروغ پا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی ہوٹل مالکان، گیسٹ ہاؤسز اور کاروباری افراد کو نشانہ بنا کر ان کی کمر توڑی جا رہی ہے۔ یہ دوہرا معیار بھارتی ریاستی پالیسی کے تضادات کو بے نقاب کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ مقصد کشمیری عوام کی فلاح نہیں بلکہ ان پر مکمل معاشی کنٹرول ہے۔
معاشی قتل عام اور اجتماعی سزا
ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے خلاف کارروائیاں دراصل اجتماعی سزا کی ایک شکل ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار ان کاروباروں سے وابستہ ہے۔ ان پر جرمانے، چھاپے اور ہراسانی کشمیری معاشرے کو غربت، بے روزگاری اور مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے کی منظم کوشش ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی پالیسیاں کسی بھی قوم کی آزادی کی تحریک کو ختم نہیں کر سکتیں۔
کشمیر کی جدوجہد اور عالمی ضمیر
آج کشمیر کا مسئلہ عالمی ضمیر کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی قراردادیں محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں اور کشمیری عوام کو ان کا حق نہ ملے تو عالمی نظامِ انصاف کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھیں گے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد نہ صرف اپنی آزادی کے لیے ہے بلکہ یہ عالمی اصولوں کی بقا کی جدوجہد بھی ہے۔
نتیجہ: آزادی کی منزل ناگزیر
تمام تر جبر، معاشی دباؤ اور سیاسی سازشوں کے باوجود یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام، یعنی حقِ خود ارادیت کے حصول تک جاری رہے گی۔ بھارت اگر واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے طاقت کے بجائے انصاف، مکالمے اور کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنا ہوگا، کیونکہ تاریخ ہمیشہ جابر نہیں بلکہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔