عریانی بطور فیچر

ایک سوال ہے جو آج صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین ہی نہیں، ہر صاحبِ شعور انسان کے ذہن میں دستک دے رہا ہے: ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ یہ سوال کسی مذہبی منبر تک محدود نہیں رہا، نہ ہی کسی فلسفیانہ مباحثے کا حصہ ہے۔ یہ سوال اب ہماری موبائل اسکرینوں، سوشل میڈیا فیڈز اور کمنٹ سیکشنز میں چیخ چیخ کر سامنے آ رہا ہے۔ خاص طور پر اس وقت، جب ٹوئٹر (یا ایکس) پر Grok نامی آرٹیفیشل انٹیلی جنس عریانی، بے پردگی اور اخلاقی سرحدوں کو پامال کرتی نظر آتی ہےاور وہ بھی آزادیٔ اظہار کے نام پر۔
یہ محض ایک اے آئی ٹول کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس سوچ کا مسئلہ ہے جو ٹیکنالوجی کو جواب دہی سے آزاد سمجھتی ہے، اور انسان کو محض ڈیٹا پوائنٹ بنا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ Grok کیا کر سکتا ہے، سوال یہ ہے کہ Grok کو کیا کرنا چاہیے—اور اس کی حدود کون طے کرے گا؟

آج صورتِ حال یہ ہے کہ کسی خاتون کی تصویر ہو، کسی طالبہ کی سادہ سی پوسٹ، کسی بچے کی تصویر، یا کسی عام شہری کا کلپ—کمنٹ سیکشن میں ایک ہی مطالبہ بار بار دہرایا جاتا ہے: اسے بیکنی میں بدل دو، نیوڈ بنا دو، عریاں کر دو۔ اور Grok، بغیر کسی اخلاقی فلٹر، بغیر کسی سماجی ذمہ داری کے، ان مطالبات کو پورا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ محض فیچر نہیں، یہ ایک بیانیہ ہےاور یہ بیانیہ خطرناک ہے۔

یہاں ہمیں رک کر یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا کی دیگر معروف اے آئی سروسز—جیسے ChatGPT، Gemini، اور Blackboxکیوں واضح پالیسیز رکھتی ہیں؟ کیوں وہ بچوں، خواتین، نجی افراد، اور حساس مواد کے معاملے میں سخت حدود مقرر کرتی ہیں؟ اس کی وجہ سادہ ہے: کیونکہ ٹیکنالوجی غیر جانبدار نہیں ہوتی؛ اسے بنانے والوں کی اقدار اس میں جھلکتی ہیں۔ جب پالیسی نہ ہو، تو بے راہ روی پھیلتی ہے۔ جب جواب دہی نہ ہو، تو طاقت فساد میں بدل جاتی ہے۔

بدقسمتی سے Grok کے معاملے میں ہمیں پالیسی سے زیادہ شو بازی نظر آتی ہے۔ سب کچھ آزاد ہے کا نعرہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ یہاں آزادی اور بے لگام پن کے فرق کو جان بوجھ کر مٹا دیا گیا ہے۔ آزادیٔ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی عزت، کسی کی نجی حیثیت، یا کسی کی انسانیت کو کچلا جائے۔ مگر سوشل میڈیا کلچر—خاص طور پر یوٹیوب اور وائرل ہونے کی دوڑ نے اخلاقی ذمہ داری کو مذاق بنا دیا ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ معاشرہ اس مقام تک کیوں پہنچا؟ ہماری نوجوان نسل کیوں ہر تصویر کو جنسیت کی عینک سے دیکھنے لگی ہے؟ کیوں کسی خاتون کی موجودگی خود بخود ایک مواد بن جاتی ہے؟ اس کا جواب صرف ٹیکنالوجی میں نہیں، ہمارے سماجی رویّوں میں ہے۔ ہم نے تربیت کے بجائے تفریح کو ترجیح دی، کردار کے بجائے مشہوری کو معیار بنایا، اور محنت کے بجائے شارٹ کٹ کو کامیابی کی تعریف بنا دیا۔

آج کا یوٹیوب کلچر کھلے عام یہ پیغام دیتا ہے کہ راتوں رات مشہور ہو جاؤ،وائرل ہونا ہی کامیابی ہے، تعلیم اور محنت فضول ہیں۔ جب ایک میٹرک فیل وی لاگر کی کمائی کو برسوں محنت کرنے والے ڈاکٹر یا انجینئر سے موازنہ کر کے دکھایا جاتا ہے، تو دراصل نوجوان ذہنوں میں اقدار کا قتل کیا جاتا ہے۔ یہی ذہن پھر سوشل میڈیا پر دوسروں کی عزت کو بھی ایک کلک میں نیلام کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

یہاں مذہبی پہلو کو نظرانداز کرنا خود فریبی ہوگی۔ اسلام میں حیا محض ایک اخلاقی قدر نہیں، ایمان کا حصہ ہے۔ قرآن و سنت میں نگاہ، لباس، گفتگو اور نیت ہر سطح پر حیا کی تلقین کی گئی ہے۔ خودکشی حرام ہے، زنا حرام ہے، کسی کی عزت اچھالنا حرام ہے، اور کسی انسان کو محض خواہش کا سامان بنا دینا بھی حرام ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس مقام تک کیوں پہنچ گئی ہے جہاں حرام و حلال کی تمیز دھندلا چکی ہے؟

اس کی ایک بڑی وجہ عدم برداشت ہے۔ آج کا نوجوان ناکامی، انتظار اور تدریج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ فوراً نتیجہ چاہتا ہے فوراً شہرت، فوراً پیسہ، فوراً توجہ۔ جب یہ سب میسر نہ آئے تو فرسٹریشن جنم لیتی ہے، اور وہ فرسٹریشن کبھی خود کو نقصان پہنچاتی ہے، اور کبھی دوسروں کی عزت کو۔ Grok جیسے ٹولز اس عدم برداشت کو مزید ایندھن فراہم کرتے ہیں، کیونکہ یہاں ہر خواہش فوراً پوری ہو جاتی ہےبغیر کسی اخلاقی قیمت کے۔

یہاں ایلون مسک کی ذمہ داری محض ایک بزنس مین کی نہیں، ایک عالمی اثر رکھنے والے شخص کی ہے۔ جب آپ کے پلیٹ فارم پر خواتین، بچوں اور عام شہریوں کی تصاویر کو عریانی میں بدلنا تفریح بن جائے، تو یہ محض فیچر نہیں رہتا، یہ ایک سماجی جرم بن جاتا ہے۔ آزادی کے نام پر فحاشی بیچنا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ منافع، اقدار پر غالب آ چکا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب میں بھی یہ بحث جاری ہے۔ وہاں بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اے آئی کی اخلاقیات کیا ہوں گی؟ پرائیویسی کہاں ختم ہوتی ہے؟ رضامندی (consent) کا تصور ڈیجیٹل دنیا میں کیسے نافذ ہوگا؟ مگر ہمارے ہاں مسئلہ دوہرا ہے: نہ صرف پالیسی کی کمی، بلکہ سماجی مزاحمت کی بھی کمی۔ ہم یا تو خاموش تماشائی ہیں، یا خود اس کھیل کا حصہ۔

تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں سب کو اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ یہ محض “آن لائن مذاق” نہیں، یہ ذہن سازی ہے۔ آج جو نوجوان کسی تصویر کو عریاں بنانے پر ہنستا ہے، کل وہ حقیقی زندگی میں بھی رشتوں، حدود اور احترام کو اسی نظر سے دیکھے گا۔ معاشرے اسی طرح بکھرتے ہیں آہستہ آہستہ، مگر مستقل۔

اختتامیہ کے طور پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ٹیکنالوجی نہ نجات دہندہ ہے، نہ شیطان یہ آئینہ ہے۔ مگر جب آئینہ بے حیا ہو جائے، تو چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں: ایسا جہاں الگورتھم ہماری خواہشات کے غلام ہوں، یا ایسا جہاں انسانیت، حیا اور ذمہ داری ٹیکنالوجی کی رہنمائی کریں۔

اگر آج ہم نے Grok جیسے ٹولز پر سوال نہ اٹھایا، اگر ہم نے آزادی اور بے لگام پن کے فرق کو واضح نہ کیا، تو کل یہ صرف اسکرین تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ ہمارے گھروں، ہماری درسگاہوں اور ہماری نسلوں تک پہنچے گا۔ اور پھر شاید ہمارے پاس یہ کہنے کے لیے بھی الفاظ نہ ہوں کہ ہم کہاں غلط ہو گئے تھے۔