ایک عہد کی دو چیخیں،خاموش، دبی ہوئی، مگر اندر تک ہلا دینے والی۔
یہ چیخیں کسی میدانِ جنگ سے نہیں اٹھیں، نہ ہی کسی قدرتی آفت کا نتیجہ تھیں، بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں، ہمارے گھروں اور ہمارے اجتماعی رویّوں کے اندر سے ابھریں۔ یونیورسٹی آف لاہور میں پیش آنے والے دو الگ مگر باہم جڑے واقعات نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ ہمارے نوجوان صرف نصاب کا بوجھ نہیں اٹھا رہے، وہ توقعات، تقابل، خوف اور ناکامی کے طعنے بھی اپنے کندھوں پر لادے پھر رہے ہیں۔ یہ محض انفرادی حادثات نہیں، بلکہ ایک ایسے سماج کی علامت ہیں جو کامیابی کو صرف نمبروں، ڈگریوں اور فوری نتائج سے ناپتا ہے، اور جہاں ذہنی اذیت اکثر آخری لمحے تک غیر محسوس رہتی ہے۔
لاہور کی ایک نجی جامعہ میں فارمیسی کی طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش اور اسی جامعہ میں چند ہفتے قبل ایک طالب علم کی ہلاکت نے ہمیں ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس سے ہم عموماً نظریں چرا لیتے ہیں: کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی نوجوان ذہنوں کے لیے محفوظ جگہیں رہ گئے ہیں، یا یہ خوابوں کی آڑ میں دباؤ پیدا کرنے والی فیکٹریاں بنتے جا رہے ہیں؟
یہاں بات کسی ایک یونیورسٹی، کسی ایک رجسٹرار، کسی ایک استاد یا کسی ایک طالب علم تک محدود نہیں۔ یہ مسئلہ کہیں زیادہ گہرا، وسیع اور تکلیف دہ ہے۔ یہ ہمارے سماجی رویّوں، خاندانی توقعات، تعلیمی ترجیحات اور اجتماعی بے حسی کا مجموعی عکس ہے۔
ایک منظر دیکھیے:
ایک نوجوان طالبہ، جو بظاہر اپنی کلاس میں بہتر کارکردگی دکھا رہی تھی، جس کی حاضری نوے فیصد سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو کسی تعلیمی ناکامی کی واضح مثال نہیں وہ اچانک دوسری منزل سے چھلانگ لگا دیتی ہے۔ دوسری طرف ایک نوجوان طالب علم، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کم حاضری، تضحیک اور سمسٹر ضائع ہونے کے خوف کا شکار تھا، چوتھی منزل سے کود کر زندگی کا چراغ گل کر دیتا ہے۔
ایک اور پہلو جو اس پورے سانحے کو مزید تکلیف دہ بنا دیتا ہے، وہ وہ منظر ہے جو چھلانگ کے بعد سامنے آیا۔ ایک زخمی طالبہ، جس کے جسم پر شدید چوٹیں واضح تھیں،گردن، بازو، ٹانگیں، جبڑا اور ریڑھ کی ہڈی،ایسے شخص کے ساتھ جو سٹریچر، احتیاط اور تربیت کی متقاضی ہوتی ہے، مگر اس کے برعکس اسے ٹوٹے ہوئے جسم سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے لے جایا گیا۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایسی غیر انسانی حرکت کس تربیت کا نتیجہ ہے؟ کیا تعلیمی اداروں سے منسلک عملہ انسانی جان کی نزاکت، ابتدائی طبی اصولوں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی بنیادی تربیت سے بھی محروم ہے؟ اگر ایک تعلیمی ادارہ اپنے احاطے میں پیش آنے والے سانحے کے بعد بھی زخمی انسان کے ساتھ وقار، احتیاط اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر سکتا تو یہ صرف ایک فرد کی نااہلی نہیں، بلکہ پورے نظام کی اخلاقی شکست ہے۔ ایسے مناظر نوجوان ذہنوں پر وہ زخم چھوڑ جاتے ہیں جو صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی سطح پر بھی دیرپا ہوتے ہیں۔
یہ دونوں کہانیاں بظاہر مختلف ہیں، مگر ان کا مرکزی سوال ایک ہی ہے:انکے اندر کیا چل رہا تھا؟
ہم نے ذہنی صحت کو نمبروں، حاضری، سی جی پی اے فیس سلپس اور ظاہری شکل کے خانوں میں قید کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک اگر طالب علم کلاس میں آ رہا ہے، امتحان دے رہا ہے اور رزلٹ ٹھیک ہے اور لوگوں میں ہنس کھیل رہا ہے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ انسان کی اصل کیفیت اس کی خاموشی میں چھپی ہوتی ہے، اس کے مسکراتے چہرے کے پیچھے، اور اس کے میں ٹھیک ہوں کے جملے کے اندرہوتی ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں کامیابی کا واحد پیمانہ ڈگری، نوکری اور سماجی اسٹیٹس بنا دیا گیا ہے۔ طالب علم، خاص طور پر فریشرز، جب یونیورسٹی میں قدم رکھتے ہیں تو وہ صرف ایک تعلیمی مرحلے میں داخل نہیں ہوتے، بلکہ ایک بے رحم مقابلے میں کود پڑتے ہیں۔ یہاں ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیک وقت ذہین بھی ہوں، مضبوط بھی، مطیع بھی، اور ہر حال میں کامیاب بھی۔
ناکامی کے لیے، الجھن کے لیے، یا رک کر سانس لینے کے لیے نہ کوئی جگہ چھوڑی گئی ہے، نہ کوئی زبان دی گئی ہے۔
تعلیمی ادارے علم دینے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر انسان بنانے کی ذمہ داری اکثر فیس اسٹرکچر، سمسٹر کیلنڈر اور گریڈنگ سسٹم کے نیچے دب جاتی ہے۔ یونیورسٹی کے راہداریوں میں چلتے ہوئے اگر غور کیا جائے تو ایسے بے شمار چہرے نظر آئیں گے جو بظاہر پُراعتماد، ہنستے مسکراتے دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے بکھر رہے ہوتے ہیں۔ اس بکھراؤ کو نہ استاد پڑھ پاتے ہیں، نہ انتظامیہ، اور اکثر نہ ہی گھر والے۔
خاندان، جو کبھی نوجوان کے لیے سب سے مضبوط سہارا ہوا کرتا تھا، اب غیر محسوس طریقے سے دباؤ کا ایک مستقل ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
اتنی فیس دی ہے، نتیجہ تو آنا چاہیے
فلاں کا بیٹا تو بیرونِ ملک چلا گیا
لڑکا ہے، مضبوط بنو
لڑکی ہو، خاندان کی عزت ہے
یہ جملے شاید نیت کے بغیر کہے جاتے ہیں، مگر ان کا وزن کسی نازک ذہن پر پہاڑ بن کر گرتا ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو کسی نئے شہر میں، ہاسٹل کے کمرے میں، تنہائی، اجنبیت اور مقابلے کے ماحول میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مرد ہوں یا خواتین دونوں کے لیے زندگی کی جنگ آسان نہیں رہی۔ فرق صرف یہ ہے کہ مردوں سے کہا جاتا ہے رو مت، اور خواتین سے کہا جاتا ہے برداشت کرو۔ دونوں صورتوں میں اصل احساسات کو دبانے کی تلقین کی جاتی ہے۔
ذہنی صحت اب کوئی لگژری موضوع نہیں رہا، یہ ایک ہنگامی سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور ڈپریشن کو آج بھی یا تو کمزوری سمجھا جاتا ہے یا بدنامی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم یہ کہہ دے کہ وہ ذہنی طور پر تھکا ہوا ہے تو اکثر جواب ملتا ہے:
یہ سب وہم ہے
ہم نے بھی سب برداشت کیا ہے
عبادت روح کی غذا ہے، حوصلہ ایمان سے ملتا ہے، مگر علاج سے انکار خود ایک اور ظلم ہے۔ ذہنی بیماری کو اخلاقی کمزوری سمجھ لینا مسئلے کو حل نہیں کرتا، بلکہ اسے مزید گہرا کر دیتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں موجود کاؤنسلنگ سینٹرز اکثر رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ایک کمرہ، ایک بورڈ، چند فائلیں مگر کوئی ایسا محفوظ ماحول نہیں جہاں طالب علم بغیر خوف کے بیٹھ کر یہ کہہ سکے کہ میں ٹھیک نہیں ہوں۔ اساتذہ کی تربیت بھی زیادہ تر مضمون پڑھانے تک محدود رہتی ہے، طالب علم کے رویّے میں آنے والی خاموش تبدیلی، اس کی غیر معمولی تنہائی یا بے دلی کو پڑھنا نظام کا حصہ ہی نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے واقعات کے بعد الزام تراشی سب سے آسان راستہ ہوتا ہے۔ کوئی یونیورسٹی کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرا دیتا ہے، کوئی طالب علم کو ذہنی طور پر کمزور قرار دے کر بات ختم کر دیتا ہے۔ حالانکہ سچ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ کہیں موجود ہوتا ہے۔ اسی لیے شفاف، سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ انکوائری ناگزیر ہے جیسے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے وزارتِ تعلیم پنجاب کے ماتحت انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان۔ مگر شرط یہ ہے کہ انکوائری رپورٹس محض فائلوں میں دفن نہ ہو جائیں، بلکہ ان سے اصلاح کا راستہ نکلے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اس واقعے میں قصوروار کون ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان واقعات سے سیکھنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا ہم تعلیمی نظام کو واقعی انسان دوست بنانے پر تیار ہیں ؟ کیا والدین اپنی خواہشات کو بچوں کی ذہنی سکت کے مطابق ڈھالنے پر آمادہ ہیں ؟ کیا ہم بطور معاشرہ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ ہر جدوجہد نمبر، حاضری یا ڈگری میں نہیں ناپی جا سکتی؟
آج کے نوجوان مرد بھی اسی شدت سے دباؤ کا شکار ہیں۔ روزگار کی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی، محدود مواقع اور سماجی توقعات انہیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہیں۔ خواتین کے لیے یہ دباؤ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جہاں تعلیمی کامیابی کے ساتھ ساتھ کردار، سماجی رویّے اور “حدود” کا اضافی بوجھ بھی شامل ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہر خاموش طالب علم کمزور نہیں ہوتا، اور ہر مسکراتا چہرہ مطمئن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بہترین حاضری، اچھے نمبرز اور ظاہری کامیابی کے پیچھے ایک شدید اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے جس کا شور کسی کو سنائی نہیں دیتا۔
یہ کالم کسی ایک طالبہ، کسی ایک طالب علم یا کسی ایک جامعہ کا مقدمہ نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے اس آئینے میں جھانکنے سے انکار کیا تو یہ واقعات محض خبروں کی سرخیوں میں بدلتے رہیں گے۔ ہر بار ہم کہیں گے: تحقیقات جاری ہیں، اور پھر اگلی خبر کے انتظار میں آگے بڑھ جائیں گے۔
مگر اصل تحقیقات ہمیں اپنے اندر کرنی ہوں گی اپنے گھروں میں، اپنی کلاسوں میں، اپنے اداروں میں اور اپنے رویّوں میں۔
کیونکہ مسئلہ صرف ایک چھلانگ کا نہیں، مسئلہ اس بلندی کا ہے جہاں سے نوجوان خود کو گرتا ہوا محسوس کرتا ہے اور نیچے اسے تھامنے کے لیے کوئی ہاتھ نظر نہیں آتا۔
اختتامی طور پر یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اسلام میں خودکشی صریحاً حرام ہے، اور انسانی جان کو اللہ کی امانت قرار دیا گیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس مقام تک کیوں پہنچ رہی ہے جہاں انہیں حرام اور حلال کے فرق سے زیادہ فوری نجات دکھائی دیتی ہے۔ آج کے معاشرے میں عدم برداشت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے؛ ناکامی، تاخیر اور جدوجہد کو جرم سمجھ لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب کلچر نے ذہنوں میں یہ تصور بٹھا دیا ہے کہ کامیابی کا مطلب راتوں رات مشہور اور امیر ہونا ہے، جہاں ایک وی لاگر کی مثال دے کر کہا جاتا ہے کہ میٹرک فیل بھی لاکھوں کما رہا ہے اور دوسری طرف ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی برسوں کی محنت کو کمتر ثابت کیا جاتا ہے۔ یہ موازنہ صرف غیر منصفانہ نہیں بلکہ تباہ کن ہے۔ ایسے بیانیے نوجوانوں پر ایسا دباؤ ڈالتے ہیں جو نہ صرف ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ انہیں اپنی قدر و قیمت پر شک میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ صبر، تدریج، محنت اور مقصدیت کو دوبارہ قابلِ قدر بنائیں، اور نوجوانوں کو یہ احساس دلائیں کہ زندگی کی قدر کسی وائرل ویڈیو یا فوری شہرت سے نہیں، بلکہ حوصلے، استقامت اور امید سے ہوتی ہے۔