ہر سال پانچ جنوری کو پاکستان، آزادکشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں یومِ حقِ خودارادیت منایا جاتا ہے، یہ دن محض یادگاری نہیں بلکہ ایک زندہ عالمی سوال کی علامت ہے، وہ سوال جو کشمیری عوام کے مستقبل، شناخت اور آزادی سے جڑا ہے، یہ دن دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ حقِ خود ارادیت کوئی سیاسی رعایت نہیں بلکہ اقوامِ عالم کے تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔
حقِ خود ارادیت: ایک عالمی اصول کی بنیاد
حقِ خود ارادیت کا تصور جدید عالمی نظام کی اساس ہے، اقوامِ عالم نے تسلیم کیا کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی مستقبل کا فیصلہ خود کرے، یہی اصول نوآبادیاتی نظام کے خاتمے، نئی ریاستوں کے قیام اور عالمی امن کے تصور کی بنیاد بنا، کشمیر کا مسئلہ اسی اصول کے تحت عالمی ایجنڈے پر آیا۔
تقسیمِ برصغیر اور مسئلہ کشمیر کا آغاز
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ریاستِ جموں و کشمیر ایک متنازع خطے کے طور پر سامنے آئی، جغرافیائی، مذہبی اور سیاسی پیچیدگیوں نے اس خطے کو فوری طور پر ایک تنازع میں بدل دیا، کشمیری عوام کی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر بھارت نے طاقت اور عسکری اقدامات کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں یہ مسئلہ دو ممالک کے درمیان جنگوں اور کشیدگی کا سبب بنا۔
اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر کی پیشی
ریاستِ جموں و کشمیر کا تنازع 1948 میں عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے سامنے پیش کیا گیا، یہ وہ لمحہ تھا جب کشمیر ایک علاقائی مسئلے سے نکل کر باضابطہ عالمی تنازع بن گیا، سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر بحث ہوئی اور دنیا نے پہلی مرتبہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا۔
سلامتی کونسل کی قراردادیں
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جائے گا، یہ قراردادیں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا عالمی اعتراف ہیں مگر بھارت کی منافقانہ سوچ کی وجہ سے یہ وعدے آج تک عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔
پانچ جنوری کی علامتی اہمیت
پانچ جنوری کا دن انہی قراردادوں کی یاد دہانی ہے، یہ دن اس عہد کی علامت ہے جو عالمی برادری نے کشمیری عوام سے کیا تھا، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں اس دن کو منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں محض کاغذی دستاویزات نہیں بلکہ زندہ وعدے ہیں جن کی تکمیل عالمی اداروں کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
پاکستان شروع دن سے ہی مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا حامی رہا ہے، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی اور اس مسئلے کو ایک انسانی اور قانونی تناظر میں پیش کیا، پانچ جنوری کو یومِ حقِ خود ارادیت منانا اسی اصولی مؤقف کا تسلسل ہے۔
بھارت کا حقِ خود ارادیت سے انکار
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین فوج کی طویل عرصے سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، بھارت کی جانب سے آر ایس ایس کی موجودگی، سیاسی پابندیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ حقِ خود ارادیت کو طاقت کے ذریعے دبانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ عوامی خواہشات کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔
اقوامِ متحدہ کا کردار: ثالث یا تماشائی؟
اقوامِ متحدہ نے کشمیر کے مسئلے پر ثالث کا کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ کردار کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے، عالمی سیاست، طاقت کے توازن اور مفادات نے اقوامِ متحدہ کو اکثر ایک خاموش تماشائی بنا دیا، پانچ جنوری کا دن اسی خاموشی پر سوالیہ نشان ہے۔
عالمی برادری اور دوہرا معیار
دنیا کے مختلف خطوں میں حقِ خود ارادیت کے اصول کو نافذ کیا گیا مگر کشمیر کے معاملے میں دوہرا معیار واضح ہے، یہی تضاد عالمی نظامِ انصاف پر سوالات اٹھاتا ہے، یومِ حقِ خود ارادیت اس تضاد کو بے نقاب کرنے کا دن ہے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔
کشمیری عوام کی جدوجہد
تمام تر رکاوٹوں کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد زندہ ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ شعور اس بات کا ثبوت ہے کہ حقِ خود ارادیت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی عزم ہے، پانچ جنوری اس عزم کی اجتماعی تجدید کا دن ہے۔
وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ
یومِ حقِ خود ارادیت دراصل اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے نام ایک سوال ہے: کیا عالمی وعدے پورے ہوں گے؟ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس کا منصفانہ حل عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، جب تک کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت نہیں ملتا، پانچ جنوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا۔