مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کی نئی داستان

 غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر ایک بار پھر ریاستی جبر کی نئی لہر کی زد میں ہے۔ یہاں زندگی کا ہر شعبہ بھارتی قابض انتظامیہ کی سخت نگرانی اور کنٹرول میں ہے، مگر حالیہ اقدامات نے واضح کر دیا ہے کہ اب نشانہ صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ تعلیم جیسے بنیادی انسانی حق کو بھی بنایا جا رہا ہے۔

طلبہ کا احتجاج: ایک فطری ردِعمل

مودی حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف کشمیری طلبہ کا احتجاج کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز ردِعمل تھا۔ طلبہ یہ سوال اٹھانا چاہتے تھے کہ آخر کیوں تعلیمی ادارے بار بار بند کیے جاتے ہیں، کیوں انٹرنیٹ معطل کر کے ان کے تعلیمی مستقبل کو یرغمال بنایا جاتا ہے اور کیوں تعلیم کو سیکیورٹی مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔

سرینگر میں کرفیو جیسی صورتحال

جوں ہی احتجاجی دھرنے کی کال دی گئی، سرینگر میں سخت پابندیاں نافذ کر دی گئیں۔سڑکیں بند، ناکے قائم، نقل و حرکت محدود اور شہر کو عملی طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی انتظامیہ اختلافی آواز سے کس قدر خوفزدہ ہے۔

سیاسی قیادت کو نظر بند کرنے کی حکمتِ عملی

احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ سیاسی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کشمیری سیاست دان آغا روح اللہ مہدی، عبدالوحید پرہ اور سابق میئر جنید عظیم متو کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تاکہ وہ احتجاج کی قیادت نہ کر سکیں۔

گھروں کے باہر بندوق بردار اہلکار

کشمیری رہنماؤں کی رہائش گاہوں کے باہر پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں مسلح بھارتی اہلکاروں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو اس دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔

جمہوریت کے دعوے اور عملی تضاد

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے، مگر مقبوضہ کشمیر میں اس کے اقدامات اس دعوے کے بالکل برعکس ہیں۔ جمہوریت میں احتجاج جرم نہیں ہوتا، مگر یہاں طلبہ کی پرامن آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جا رہا ہے، جو ایک آمرانہ طرزِ حکمرانی کی علامت ہے۔

آرٹیکل 370 کے بعد بدتر حالات

2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں شہری آزادیوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ آئے دن کرفیو، انٹرنیٹ بندش، گرفتاریاں اور خوف کی فضا نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ تعلیمی ادارے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں پڑھائی تسلسل کے ساتھ ممکن نہیں رہی۔

کشمیری نوجوان اور چھینا گیا مستقبل

کشمیری نوجوان پہلے ہی دہائیوں کے تنازع، تشدد اور عدم استحکام کا سامنا کر رہے ہیں۔ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو انہیں ایک بہتر مستقبل کی امید دیتا ہے، مگر جب یہی راستہ بند کر دیا جائے تو مایوسی، بے چینی اور اضطراب کا پھیلنا فطری عمل بن جاتا ہے۔

تعلیم دشمن پالیسیوں کے اصل مقاصد

مودی حکومت کی پالیسیوں کا مقصد محض انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ کشمیری نوجوانوں کی فکری نشوونما کو روکنا ہے۔ نصاب میں مداخلت، سوال اٹھانے پر پابندی اور یونیورسٹیوں کو سیکیورٹی زون بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت باشعور کشمیری نسل سے خوفزدہ ہے۔

انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

تعلیم، اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے، مگر مقبوضہ کشمیر میں یہ تمام حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا ان خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

سرینگر کی خاموش سڑکیں

آج سرینگر کی سڑکوں پر خاموشی تھی، مگر یہ امن کی خاموشی نہیں بلکہ خوف کے سائے میں دبی ہوئی آواز تھی۔ بند تعلیمی ادارے، گھروں میں قید رہنما اور ہر طرف مسلح اہلکار اس خاموشی کی اصل وجہ بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔

عالمی برادری کا کردار

عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی حقوق کی پامالی پر نوٹس لیں، صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اور اخلاقی دباؤ ناگزیر ہے تاکہ کشمیری طلبہ کو ان کا بنیادی حق مل سکے۔

علم کو زنجیروں میں نہیں جکڑا جا سکتا

مقبوضہ کشمیر میں آج تعلیم بھی جرم بنا دی گئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ علم کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری طلبہ کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ شعور، جبر کے ہر حصار کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔