جواب: اگر امام، مؤذّن یا خادم وغیرہ میں سے کوئی فرد کسی بھی سبب سے اپنے منصب سے دستبردار ہوگیا تو اب مسجد کے فنڈیا عطیات سے اُسے کوئی رقم نہیں دی جاسکتی کہ مسجد کی جمع شدہ رقم مالِ وقف ہے جو صرف مصارفِ مسجد مثلاً مسجد کے عملے کا مشاہرہ اور ضروریات ومصالح مسجد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ علّامہ نظام الدینؒ وقف میں تصرُّف کی بابت لکھتے ہیں جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ’’اور اگر(مُتولیٰ مسجد) ان میں سے کچھ چیزیں مسجد کے امام یا مسجد کے مؤذّن کی طرف منتقل کرنا چاہے تو یہ اس کے لیے ممکن نہیں سوائے اس کے کہ واقف نے اس شرط کو وقف میں شامل کیا ہو،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد2،ص:463)‘‘۔
البتہ اگر مسجد کی انتظامیہ کے افراد یا اہلِ محلہ اُس امام، مؤذّن یا خادم کے عمر رسیدہ ہونے کا خیال کرتے ہوئے یا عقیدت کے سبب اس کی مالی مددکے لیے علیحدہ فنڈ قائم کریں، خود بھی حصہ ڈالیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں تو یہ اجر کی بات ہے، مسجد کے عطیات یا فنڈ اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔