مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ میں 19 افراد ہلاک ہوگئے
تفصیلات کے مطابق بھارت کے شہر کولکتہ میں ایک مندر کے اندر مذہبی اجتماع کے دوران اچانک بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کچلے گئے، واقعے میں 19 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، واقعے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے باعث علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی۔
مذہبی اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے دوران ہجوم کو منظم رکھنا ایک اہم چیلنج ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اچانک افراتفری یا لوگوں کے ایک دوسرے پر گرنے سے بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بھارت میں اس سے قبل بھی مذہبی اجتماعات کے دوران بھگدڑ کے افسوسناک واقعات پیش آچکے ہیں۔ 2024 میں ریاست اتر پردیش میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے 121 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے نے بڑے اجتماعات میں حفاظتی انتظامات اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:خوفناک ٹریفک حادثے میں 8 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی
کولکتہ میں پیش آنے والے تازہ واقعے نے ایک بار پھر مذہبی اجتماعات میں مناسب حفاظتی انتظامات، ہجوم کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مؤثر اقدامات کی اہمیت اجاگر کردی ہے۔