امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی نوانتھم ناوی کے نام
انہیں نسل پرستی، ریاستی جبر اور جنگی جرائم کے خلاف جدوجہد اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے خدمات پر سراہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نوانتھم ناوی نے اپنی زندگی انسانی حقوق کے دفاع اور مظلوم افراد کو انصاف کی فراہمی کیلئے وقف کیے رکھی۔
انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی قانونی نمائندگی بھی کی اور مختلف عالمی اداروں میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔
نوانتھم ناوی 2003 سے 2008 تک بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج رہیں، جبکہ 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے عہدے پر فائز رہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کے فروغ اور انصاف کے قیام کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ امن کا نوبیل انعام دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہوتا ہے، یہ ان شخصیات اور اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی امن، ممالک کے درمیان تعاون، مسلح تنازعات میں کمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے نمایاں کردار ادا کیا ہو۔
نوبیل انعامات کا آغاز 1901 میں ہوا تھا، ان انعامات کا نام سویڈن کے معروف موجد اور کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا تھا۔ انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ انعامات کے اجرا کے لیے مختص کیا تھا۔
نوبیل انعامات مختلف شعبوں، جن میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن شامل ہیں، میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیے جاتے ہیں۔ ان اعزازات کا بنیادی مقصد ایسے افراد اور اداروں کی خدمات کو تسلیم کرنا ہے جن کی کوششوں سے انسانیت کو فائدہ پہنچے۔