ایٹمی ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں اور پابندیاں ایران پرہیں، صدر پزشکیان
مسعود پزشکیان نے خطاب کے آغاز میں ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ایران سے آئے ہیں جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی۔ انہوں نے شہید بچوں کی تصاویر جنرل اسمبلی میں دکھائیں اور کہا کہ ان بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ان بچوں کو قتل کیا، جب کہ امریکا نے ایران کی خواتین، بچوں، مردوں اور سائنس دانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ معصوم شہری بزدلانہ حملوں کا شکار ہوئے۔
پزشکیان نے کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، اس کے باوجود ایران نہیں جھکا اور اس نے اپنا سر خم نہیں کیا۔ ایران نے اپنا دفاع کیا اور کبھی خواتین اور بچوں پر حملہ نہیں کیا۔
غزہ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک دہشت گرد کی طرح کارروائیاں کیں اور وہاں نسل کشی کررہا ہے۔ غزہ کی صورتِ حال بین الاقوامی میکانزم کی ناکامی ہے اور فلسطین میں انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں لوگ مزاحمت کررہے ہیں اور اس مزاحمت کو بموں اور حملوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اپنا دفاع کرنے والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے، جب کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ذریعے پڑوسی ممالک کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایران خطے میں عدم استحکام کی وجہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 400 سال سے ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف 16 طیارہ گر کر تباہ ہوگیا
پزشکیان نے کہا کہ ایران کو مضبوط ہونا ہے اور وہ اپنی سکیورٹی دوسروں کی عدم سکیورٹی میں نہیں دیکھتا۔ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ایران کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
جوہری پروگرام کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو اپنی ترقی کے لیے پرامن نیوکلیئر انرجی درکار ہے اور وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران کے پاس کوئی نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہوگا، تاہم پرامن مقاصد کے لیے اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران کبھی بھی سرنڈر نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ جنگ سے نہیں ڈرتا اور ایرانی عوام اپنی سرزمین سے آخری سانس تک محبت کرتے رہیں گے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں 70 ہزار معصوم افراد کو قتل کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس نیوکلیئر بم موجود ہیں، لیکن ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل قتل کرتا ہے اور پابندیاں ایران پر لگتی ہیں، جو ان کے بقول ایک واضح دوغلی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن اور استحکام مطلوب ہے تو سب کے لیے ایک جیسا معیار ہونا چاہیے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ طاقت کے بغیر دنیا خطرناک ہے، تاہم ایران دنیا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بل کہ ترقی اور استحکام کے لیے ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران ایسا مستقل چاہتا ہے جہاں امن، استحکام اور احترام ہو اور ایسا مستقبل ہو جہاں کوئی دوسرے کے مستقبل کا فیصلہ نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جان لیں کہ پابندیاں ایران کی مزاحمت کو مزید تیز کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کبھی اپنا سر نہیں جھکائے گا۔ ایرانی صدر نے خطاب میں مذید کہا کہ ایران طاقت کی زبان نہیں بل کہ مذاکرات کی بات سمجھتا ہے۔
مسعود پزشکیان کے خطاب کے دوران امریکی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اٹھ کر چلا گیا۔