یوکرین کو برطانوی میزائل ملے تو جواب دیں گے، روس کی برطانیہ کو وارننگ
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا کی جانب سے ماسکو میں ایک پریس بریفنگ کے دوران دیا گیا یہ انتباہ برطانیہ کے لیے روس کی جانب سے اب تک کی سب سے سخت وارننگ سمجھی جا رہی ہے۔
ماریہ زاخارووا نے واضح کیا کہ برطانیہ روسی شہریوں کے خلاف ہونے والی اس دہشت گردی میں قانونی طور پر شریکِ جرم ہونے سے محض ’ایک قدم کی دوری‘ پر ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر برطانیہ نے اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے’ہم نے بارہا خبردار کیا ہے کہ برطانوی ہتھیاروں کے استعمال سے روسی سرزمین پر یوکرینی حملوں کے جواب میں، یوکرین اور اس کی سرحدوں کے باہر موجود کسی بھی برطانوی فوجی تنصیب اور سازوسامان کو ہدف بنایا جا سکتا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا ’ہمارا مشورہ ہے کہ برطانوی قیادت ایک بار پھر صورتحال کا بغور جائزہ لے اور فوری طور پر فیصلہ کن اور غیر مبہم انداز میں اپنی اس مخالفانہ اور جارحانہ پالیسی کو ترک کر دے، جو تنازع کو ایک بالکل نئی اور خطرناک سطح پر لے جانے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے‘۔
روسی ترجمان کی جانب سے یہ سخت انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محض ایک روز قبل روس نے یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین کے روسی کنٹرول والے شہر ڈونیٹسک کے ایک شاپنگ سینٹر پر برطانوی 'اسٹارم شیڈو' میزائل داغے ہیں، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ یوکرین کو ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تک رسائی دے گا جس کی مدد سے یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والے 'اسٹارم شیڈو' کروز میزائلوں کی مقامی سطح پر پیداوار شروع کر سکے۔