جنوبی کوریا میں شدید گرمی قہر بن گئی، 16 افراد جاں بحق
جنوبی کوریا کی وزارت داخلہ کے مطابق 15 مئی سے 2 اگست کے دوران گرمی سے متعلق بیماریوں کی 2 ہزار 25 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 16 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ تین مرتبہ ٹوٹا ہے جبکہ اتوار کے روز یانگسان شہر میں پارہ 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو کہ ملکی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں ایک ہی خاندان کے 112 افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد
درالحکومت سیئول میں بھی شدید ہیٹ ویو وارننگ جاری کر دی گئی ہے جہاں آج درجہ حرارت دوبارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق بزرگوں اور معذور افراد سمیت 63 ہزار حساس شہریوں کی طبی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ انہیں گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
شدید گرمی کا زور کم کرنے کے لیے سیئول میں 200 ٹرکوں کے ذریعے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جارہا ہے جبکہ شہریوں کو غیر ضروری دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔