ایرانی سپریم لیڈر چاہیں تو ان سے بات کرنے کو تیار ہوں، ٹرمپ

Donald Trump Iran Deal
فائل فوٹو
Updated | Published June, 8 2026 |
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای چاہیں تو ان سے براہ راست بات چیت کرنے کو تیار ہوں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے سے متعلق دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں، اگر وہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو دونوں ممالک کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور امریکا ایران کے ساتھ مل کر اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کو نکالنے اور تباہ کرنے کیلئے مل کر کام کرے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کریں گے تاکہ امریکی افواج خود محفوظ طریقے سے اس مواد کو جمع کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کوئی ایسا معاہدہ کر لیتے ہیں جس کے بعد ہمارے تعلقات دوستانہ ہو جائیں تو ہم سب مل کر یہ کام کریں گے اور ہم یورینیم نکال کر تباہ کریں گے، چاہے وہ وہیں تباہ کیا جایا یا پھر کسی اور جگہ لے جا کر تباہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ جائیں گے یا ان کے بغیر لیکن وہاں کوئی ہم پر فائرنگ نہیں کرے گا اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے ہیں، تو ہم انہیں بدترین فوجی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنائیں گے، پھر جب حالات محفوظ ہوں گے تو ہم خود جا کر یہ کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اسپیس فورس کے ذریعے خلا میں نصب کیمرے موجود ہیں، ہمارے پاس وہاں ہر جگہ کیمرے موجود ہیں، میں ان کے بیج پر لکھا ہوا نام بھی پڑھ سکتا ہوں یہ خلا میں موجود کیمرے ہیں۔

مستقل جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ خطے میں امریکی فوج معاملے کی تکمیل تک خطے میں تعینات رکھنا چاہتے ہیں، امریکی فوج کو اس وقت وہاں کوئی خطرہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے بہت قریب ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ایران اپنی جوہری خواہشات سے مکمل طور پر دستبردار ہو، ہمارے درمیان صرف چند نکات باقی ہیں، ایران یہ تسلیم کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ معاہدے میں یہ بھی شامل ہو کہ وہ جوہری ہتھیار خریدنے، حاصل کرنے یا کسی اور ذریعے سے بھی نہیں لے سکے گا۔