امریکا اور ایران میں امن معاہدہ، 24 گھنٹوں میں بڑا اعلان متوقع
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس تاریخی معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کی صبح امن معاہدے کے ابتدائی مسودے پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، جس کے بعد دستاویز کو حتمی منظوری کیلئے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مذاکرات میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری غیر یقینی صورتحال اور جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض حساس معاملات اب بھی زیر غور ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور خطے میں سیکیورٹی انتظامات شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے طریقہ کار پر بھی دونوں فریقین کو حتمی اتفاق کرنا ہوگا، کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائشگاہ پر فائرنگ، حملہ آور ہلاک
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدل سکتا ہے، تاہم اس کے اثرات کا انحصار عملی اقدامات اور دونوں ممالک کے اعتماد پر ہوگا۔