ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی بحری جہاز پر حملہ
ایرانی حکام کے مطابق امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز ایرانی جزیرے جسک کے قریب پہنچا، جس پر پہلے وارننگ جاری کی گئی، تاہم وارننگ کو نظر انداز کرنے پر ایران کی جانب سے دو میزائل داغے گئے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد امریکی بحری جہاز پیچھے ہٹ گئے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے فریڈم پروجیکٹ کے تحت ایک بڑا آپریشن جاری ہے، جس میں تقریباً 1500 امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ اس مشن میں 100 سے زائد طیاروں، جنگی بحری جہازوں اور ڈرونز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے امن منصوبے کی مزید تفصیلات منظرعام پر آگئیں
ادھر علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے، جس میں اس اہم سمندری گزرگاہ کے ان حصوں کو دکھایا گیا ہے جو ایرانی مسلح افواج کے زیر کنٹرول یا زیر انتظام ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس نقشے میں ایران کے کوہ مبارک سے لے کر متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کے جنوبی حصے تک کا علاقہ شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے جزیرہ قشم اور متحدہ عرب امارات کے ام القوین کے درمیان واقع سمندری حدود کو بھی نقشے میں شامل کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، جبکہ خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔