حکام کے مطابق روس سے تیل کی خریداری 16 مئی تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھی جا سکے گی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں تیل کی ممکنہ کمی کو روکنا اور توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھنا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور رسد میں کمی کے خدشات بڑھ گئے تھے، جس کے باعث یہ قدم ضروری سمجھا گیا۔
یاد رہے کہ امریکا اس سے قبل بھی محدود مدت کیلئے روسی تیل پر پابندیاں نرم کر چکا ہے، گزشتہ رعایت ختم ہونے کے بعد 11 اپریل کو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئی تھیں، تاہم اب ایک مرتبہ پھر ان میں عارضی نرمی دی گئی ہے تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف عالمی منڈی میں بہتری آئے گی بلکہ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو بھی روکا جا سکے گا۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کار اسے سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کل بڑی اہم شخصیت وائٹ ہاؤس آرہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔