غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ ریسکیو مشن کئی رکاوٹوں اور خطرات کے باوجود کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس میں سینکڑوں اہلکاروں اور درجنوں طیاروں نے حصہ لیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ٹرانسپورٹ طیاروں کی تباہی کے باعث ابتدائی مرحلے میں کارروائی تاخیر کا شکار ہوئی، تاہم بعد ازاں مزید 3 طیارے ایرانی حدود میں داخل ہوئے اور کمانڈوز کو نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا، واپسی سے قبل خراب ہونے والے طیاروں کو خود ہی تباہ کر دیا گیا تاکہ حساس معلومات محفوظ رہیں۔
ذرائع کے مطابق طیارہ حادثے کے بعد امریکی ہواباز ایک پہاڑی علاقے میں اترنے پر مجبور ہوا، جہاں ابتدائی طور پر اس کی درست لوکیشن بھی معلوم نہ ہو سکی، بعد ازاں ایک خفیہ حکمت عملی کے تحت جعلی ریسکیو کارروائی شروع کی گئی تاکہ ایرانی فورسز کو گمراہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران 48 گھنٹے میں ڈیل کرلے ورنہ قیامت ٹوٹ پڑے گی: ڈونلڈ ٹرمپ
رپورٹ کے مطابق ہواباز مسلسل اپنی مہارت اور حکمت عملی سے مخالف فورسز کو چکمہ دیتا رہا اور ایک موقع پر اسے سات ہزار فٹ بلندی تک چڑھنا پڑا، اس دوران امریکی فضائیہ نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کر کے ایرانی فورسز کو دور رکھا، تاہم دونوں جانب براہ راست تصادم سے گریز کیا گیا۔