ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغا م میں لکھا یاد رکھیں وہ وقت کہ جب میں نے ایران کو دس دن دئیے تھے کہ یا تو معاہدہ کریں یا آبنائے ہرمز کھول دیں، اب وقت ختم ہو رہا ہے، 48 گھنٹے باقی ہیں، اس کے بعد ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
27 مارچ کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی توانائی تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کو دس دن کیلئے روک رہے ہیں۔اس سے چند لمحے قبل ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں جس میں وہ امریکی معیشت پر محصولات کے اثرات کا ذکر کر رہے تھے، انہوں نے اختتام پر لکھا کہ اس سب کے ساتھ ساتھ، ایک ایٹمی ایران سے نجات۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ہی روز امریکا کے 3 طیارے مار گرائے: ایران کا دعویٰ
امریکی صدر کے بیان کے بعد ایرانی افواج کے جنرل سٹاف کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیکرچی نے کہا ہے کہ جنگ میں ایران کی سٹریٹجی امریکی افواج کو عرب ممالک سے نکالنا ہے، اس خطے کو امریکی فوجی اہلکاروں کیلئے ناقابل برداشت بنایا جائے گا۔ کسی بھی امریکی زمینی کارروائی کو قتل گاہ میں تبدیل کر دیا جائے گا جس کا مقصد اتنا بھاری نقصان پہنچانا ہے کہ آنے والی امریکی نسلیں فوج میں شامل ہونے سے خوفزدہ ہو جائیں گی، آبنائے ہرمز کو امریکی اور اسرائیلی جہازوں کیلئے بند کر دیا گیا ہے، انہیں کسی بھی بہانے رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کی اجازت لازمی ہوگی، آبنائے ہرمز اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آئے گی اور موجودہ سکیورٹی صورتحال میں یہ ایران کیلئے ایک اہم سٹریٹجک اثاثہ بن چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت فوجی کنٹرول میں ہے اور ایران اس سٹریٹجک مقام کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔