ایک ہی روز امریکا کے 3 طیارے مار گرائے: ایران کا دعویٰ
ایران
ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکا کے 2 عدد ایف 35 اور ایک اے 10 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکا کے 2 عدد ایف 35 اور ایک اے 10 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران نے اپنے دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز اور اپنی فضائی حدود میں امریکا کے 2 عدد ایف 35 اور ایک اے 10 طیارہ مار گرایا ہے۔ یہ کارروائی ایران کی فضائی حدود میں کی گئی تھی، جہاں امریکا کے طیارے کارروائی کر رہے تھے۔ ایران نے یہ کارروائی امریکی طیاروں کے مسلسل حملوں کے ردعمل میں کی ہے۔

امریکا نے اس دعویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مار گرائے جانے والے طیاروں میں ایف15E اسٹرائیک ایگل اور اے10 طیارہ شامل ہیں، تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ایف35 طیارے کو بھی مار گرایا ہے۔ امریکا کے ایف15 طیارے میں پائلٹ اور عملے کا رکن سوار تھا۔ ان میں سے ایک کو ایران کے قبضے سے بازیاب کرالیا گیا، جب کہ دوسرے کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔ اس ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز بھی مدد کے لیے بھیجے گئے، جنہیں ایران نے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں امریکی بلیک باک ہیلی کاپٹر تباہ

ایران کے دعووں کے مطابق، ان امریکی طیاروں کے ساتھ ساتھ ایران نے 5 ڈرون اور 2 کروز میزائل بھی تباہ کیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فضائی حدود اب دشمن کے لیے خطرناک بن چکی ہیں۔ ایران کے پاس جدید ترین فضائی دفاعی نظام موجود ہے، جس کی مدد سے اس نے امریکی طیاروں کو کامیابی کے ساتھ مار گرایا۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ آج امریکا کے لیے سیاہ دن ہے اور یہ ایران کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کو ان کی حدود میں کارروائی کرنا ایک مہنگی غلطی ثابت ہوئی ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ایران کی فضائی حدود میں امریکی طیارے اور دیگر فوجی ساز و سامان کی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایران کے اس اقدام پر امریکا نے فوری طور پر اپنے اہلکاروں کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ تمام امریکی اہلکار محفوظ ہیں۔ اس کے باوجود، ریسکیو آپریشن ابھی تک جاری ہے اور امریکا کے اعلیٰ فوجی افسران ایران کے ساتھ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے رابطے میں ہیں۔