ایران جنگ سے امریکا کو روزانہ کتنا نقصان ہورہا ہے؟
Iran war economic impact
فائل فوٹو
نیویارک: (ویب ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ کے نتیجے میں امریکا کو روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جس نے عالمی اقتصادی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی۔

ماہرین کے مطابق جنگی اخراجات، فوجی وسائل، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر مالی بوجھ کی مد میں یہ نقصان روز بروز بڑھ رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی عوام کو دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے مارچ کے آغاز میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی 11.3 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی دفاعی بجٹ ماہر لنڈا بلائمز کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً دو ارب ڈالر کی لاگت سامنے آ رہی ہے، سٹیفنی سیویل نے مزید بتایا کہ جنگ کے مالی بوجھ کا اثر ہر اوسط امریکی پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی قرضے بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف فوری مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی، کاروبار میں غیر یقینی صورتحال اور انشورنس کی قیمتوں میں اضافے جیسے طویل مدتی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا، ایک ہی دن میں دو اہم فیصلے آگئے

وائٹ ہاؤس پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ ایران میں ممکنہ جنگ کیلئے مزید 200 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا جائے گا، جو کہ ایک بہت بڑی اور خطیر رقم ہے، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو امریکا کی معیشت پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہوں گے اور عالمی مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔