ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا، ایک ہی دن میں دو اہم فیصلے آگئے
Trump administration court rulings
فائل فوٹو
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کو ایک ہی دن میں دو اہم عدالتی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر مالیت کے بال روم منصوبے پر عارضی طور پر کام روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری نہیں رکھا جا سکتا، جبکہ صدر کو وائٹ ہاؤس میں اس نوعیت کی تعمیر کی اجازت دینے کے حوالے سے کوئی واضح قانونی شق موجود نہیں، اس فیصلے کو انتظامی اختیارات کے استعمال پر ایک بڑی قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایک اور اہم فیصلے میں امریکی عدالت نے نیشنل پبلک ریڈیو کی فنڈنگ روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا، عدالت کے مطابق اس اقدام سے عوامی معلومات تک رسائی متاثر ہو سکتی تھی، اس لیے اسے قانون کے منافی قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے انتخابی معاملات سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو ریاستی سطح پر انتخابی امور میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اس وقت جو کچھ ہورہا اسے مذاکرات نہیں کہہ سکتے، ایران

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان عدالتی فیصلوں نے ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید قانونی اور سیاسی چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں، یہ پیش رفت امریکی سیاست میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔