اس وقت جو کچھ ہورہا اسے مذاکرات نہیں کہہ سکتے، ایران
Iran US tensions
فائل فوٹو
تہران: (ویب ڈیسک) ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے خطے میں مکمل طور پر دشمنی کے خاتمے کو ترجیح دیتا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ صرف پیغامات کا تبادلہ ہے۔

عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے بتایا کہ انہیں امریکی نمائندے کی جانب سے براہ راست پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات جاری ہیں، خطے میں موجود دوست ممالک کے ذریعے بھی پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران کسی مخصوص فریق کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، اس نوعیت کے تمام معاملات وزارت خارجہ اور سیکیورٹی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے دی گئی 15 تجاویز پر بھی ایران نے کوئی جواب نہیں دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران مذاکرات کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فوجی طیارہ حادثے کا شکار، 29 افراد ہلاک

عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ بحری راستہ مکمل طور پر کھلا ہے، تاہم وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں ملوث ہیں، ان کیلئے یہ راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کا بھرپور مقابلہ کرنے کیلئے بھی تیار ہے، امریکا کی ایسی کسی کارروائی کا خوف نہیں۔