صدر ٹرمپ کے مشیر سٹیوٹکوف کا کہنا تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی کی ٹیم نے 15 نکاتی امن تجاویز پاکستان کے ذریعے ایران کو پہنچائی ہیں،ایران کے ساتھ مثبت بات چیت سہولت کاروں کے ذریعے جاری ہے لیکن معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اس کی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے 15 نکاتی امریکی تجاویز کا باضابطہ جواب بھجوا دیا ہے، ایران اب امریکا کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے، ایران نے ثالث کاروں کے ذریعے گزشتہ رات تجاویز کا جواب بھجوایا۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ذریعے ملی امریکی تجاویز کا جائزہ لیا ہے، ایران کا ماننا ہے کہ امریکی تجاویز یکطرفہ اور غیرمنصفانہ ہیں، امریکی تجاویز صرف امریکا اور اسرائیلی مفاد میں ہیں، پاکستان کو موقف دیا تھا کہ امریکی تجاویز میں ضروری تقاضوں کی کمی ہے، پاکستان اور ترکیے امریکا اور ایران کے درمیان کامن گراؤنڈ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز مسترد کر دیں
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے، ایرانی ڈرونز،نیوی اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا، امریکا نے ایران کے ریڈار سسٹم کو مکمل طورپرتباہ کر دیا، ہم نےایران کے 154 جہاز تباہ کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے سعودی عرب، کویت، قطر اور یو اے ای سمیت 5 ممالک پر حملہ کیا، ایران جنگ سے پریشان ہو کر خلیجی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حملے کیے گئے، ایران کی اعلیٰ قیادت میں اب کوئی بھی نہیں رہا، نیٹومیں سے کوئی ہمیں ریسکیو کرنے نہیں آیا،اب وہ کہتے ہیں ہم جہاز بھیجنا چاہتے ہیں، ہمیں کسی کی مددکی ضرورت نہیں ہے، تخمینہ لگایا ہے ایران میں اپنامشن مکمل کرنے کیلئے ہمیں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔
اس کو بھی پڑھیں: خطے میں کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل 5 فیصد مہنگا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار بہت مختلف اورعجیب ہیں، ایران اب امریکا کے ساتھ ڈیل چاہتا ہے، ایران معاہدے کیلئے بھیک مانگ رہا ہے، ایران کے حکام بہت ہوشیار ہیں، وہ بہترین مذاکرات کار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہےہم ایران سےمعاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں، ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 تیل کے ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی ہے، ایران کی تیل کے جہاز گزرنے کی اجازت دینا مذاکرات میں ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔