ایران نے جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز مسترد کر دیں
ایران نے جنگ بندی کے لیے دی گئی امریکی تجاویز کو جائزہ لینے کے بعد مسترد کر دیا۔
فائل فوٹو
تہران: (سنو نیوز) ایران نے جنگ بندی کے لیے دی گئی امریکی تجاویز کو جائزہ لینے کے بعد مسترد کر دیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران سیزفائر کی تجاویز قبول نہیں کرے گا،امریکی تجاویزمنطقی نہیں، ایران اپنے مقاصد حاصل کرنے سے پہلے جنگ بند نہیں کرے گا، ایران کی دفاعی کارروائیاں ایرانی شرائط پوری ہونے تک جاری رہیں گی۔

تہران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کےخاتمے کےوقت کا تعین کریں، ایران نے علاقائی ثالث کےذریعے پیغام دیا ہےکہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق جنگ کےخاتمے کی پہلی شرط حملوں کارُکنااورایرانی عہدیداروں کےقتل کا خاتمہ ہے، ایران میں جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کا تعین اور ادائیگی کی ضمانت دی جائے ، جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایرانی شرائط پر ہو گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز واضح کردیاتھا ایران اورامریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، مذاکرات کےدوران ایران پر حملہ سفارتکاری سے غداری تھی، ہمیں امریکی سفارتکاری کا نہایت تباہ کن تجربہ ہواہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کے مذاکراتی دعوے مسترد کر دیے

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم پر 9 ماہ میں 2 بار مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا، حملہ اس وقت ہوا جب ہم جوہری مسئلے کے حل کیلئے مذاکراتی عمل کے درمیان تھے۔

قبل ازیں امریکی میڈیا کی جانب سے ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو بھیج دیا ہے۔

منصوبے کےمطابق ایران کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جوہری مواد کی افزودگی نہ کی جائے، امریکی مطالبات میں نطنز، اصفہان اور فردو کے جوہری پلانٹس کو بند یا ختم کرنا اور ایران کو خطے میں پراکسی گروپوں کو فنڈنگ فراہم نہ کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔

اس کو بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھل گئی، کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی؟

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ اقدام تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور خطے میں استحکام قائم کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے، امریکہ کا مطالبہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزاد میری ٹائم زون قائم کیا جائے۔

امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالِثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔