ایران کا 2 امریکی لڑاکا طیاروں ایف 18 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے دو امریکی جنگی طیاروں ایف 18 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
فائل فوٹو
تہران: (سنو نیوز) ایرانی پاسداران انقلاب نے دو امریکی جنگی طیاروں ایف 18 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی ایف 18 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، 2 امریکی جہازوں کو ایران کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل ایران کی بحریہ کے کمانڈر شہرام ایرانی کا کہنا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، جیسے ہی یہ امریکی بیڑا ایرانی میزائلوں کی رینج میں آئے گا اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ساحل سے داغے گئے کروز میزائلوں کے بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہاز نے اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے۔

دوسری جانب بلوم برگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ تجارتی جہازوں پر ٹرانزٹ فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے، ایران کا کمرشل جہازوں سے فیس چارج کرنا آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول کی نشانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز مسترد کر دیں

رپورٹ کے مطابق ایران ایڈہاک بنیادوں پر ہر کمرشل جہاز سے 2 ملین ڈالر لے رہا ہے، کچھ کمرشل جہازوں نےایران کو ادائیگی بھی کر دی ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ غیر معاندانہ جہاز آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ایران کیخلاف کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہ ہوں اور طے شدہ سکیورٹی ضوابط پر عمل کریں۔

دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے، صدرٹرمپ کی ترجیح ہمیشہ امن ہی ہوتی ہے، ایران نے حقیقت کو تسلیم نہ کیا تو امریکا سب سے بڑا حملہ کر دے گا۔

کیرولین لیوٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو غلط فہمیوں سے بچنا چاہیے، آپریشن کے بنیادی مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہیں۔