رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے تحت بحری جہازوں پر پہلے سے ذخیرہ شدہ ایرانی خام تیل کو فروخت کرنے اور مختلف ممالک تک منتقل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے اس حوالے سے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنا اور قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہے۔
امریکی سیکرٹری خزانہ کے مطابق ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ایک قلیل مدتی لائسنس جاری کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو رہی تھی، جسے متوازن رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چیک ریپبلک میں اسرائیلی اسلحہ فیکٹری کو آگ لگا دی گئی
سیکرٹری خزانہ نے مزید بتایا کہ اس اقدام سے نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی بڑھے گی بلکہ قیمتوں میں اچانک اضافے کو بھی روکا جا سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اجازت عارضی ہے اور اس کا مقصد صرف قلیل مدت کے لیے سپلائی چین کو مستحکم کرنا ہے۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ توانائی کے شعبے میں مزید اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے، جن کے تحت تقریباً 440 ملین اضافی بیرل تیل عالمی منڈی میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد عالمی معیشت کو درپیش توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنا اور صنعتی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
امریکی سیکرٹری خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے توانائی ایجنڈے کے باعث امریکا میں تیل و گیس کی پیداوار ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں امریکا کا کردار مزید مضبوط ہوا ہے۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |