ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ یہ تجاویز دو ثالثی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھیں، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
عہدیدار کے مطابق خارجہ پالیسی کے ایک اہم اجلاس کے دوران سپریم لیڈر نے ان تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت امن کی بات چیت کا نہیں بلکہ مضبوط مؤقف اپنانے کا ہے، ایران کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر نے اجلاس میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کیخلاف مزاحمت جاری رکھی جائے گی اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، جس کے بغیر کسی بھی قسم کی بات چیت بے معنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا یو اے ای پر حملہ،ایک اور پاکستانی جانبحق
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اس مؤقف سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو بھی دھچکا لگنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ثالثی کی کوشش کرنے والے ممالک اب نئی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔