ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا یا کسی بھی ملک نے خارگ آئل ٹرمینل پر حملہ کیا تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا، ایران جب بھی کسی معاملے پر وارننگ دیتا ہے تو اس پر عمل بھی یقینی بناتا ہے۔
ترجمان نے ہمسایہ ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک نے امریکا کو اپنی سرزمین ایران کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت دی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، ایسے ممالک کی تیل اور گیس تنصیبات ایران کے ردعمل کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کی جانب سے ایک روز قبل خارگ جزیرے پر ممکنہ حملے کا اشارہ دیا گیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا تل ابیب پر ہائپرسونک میزائلوں سے حملہ
واضح رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً پندرہ ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے، ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں، جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں توانائی کے مراکز اور سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔