ایرانی جزیروں پر کسی بھی جارحیت کا جواب انتہائی عبرتناک ہو گا: تہران
سپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر نے کہا ہے کہ ایرانی جزیروں پر کسی بھی جارحیت کا جواب انتہائی عبرتناک ہو گا۔
فائل فوٹو
تہران: (سنو نیوز) سپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر نے کہا ہے کہ ایرانی جزیروں پر کسی بھی جارحیت کا جواب انتہائی عبرتناک ہو گا۔

اپنے ایک بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر کا کہنا تھا کہ ایرانی جزیروں پر کسی بھی حملے کی صورت میں تمام حدیں پار کر جائیں گے، خلیج فارس کو حملہ آوروں کے خون سے سرخ کر دیں گے، امریکی فوجیوں کے خون کی ذمہ داری براہ راست ٹرمپ پر ہو گی۔

دوسری جانب ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ اسرائیل ایران کی تاریخی یادگاروں پر بمباری کر رہا ہے، اسرائیل ایران کی صدیوں پرانی یادگاروں کو مٹا رہا ہے، یونیسکو کے کئی عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ فطری بات ہے ایک صدی پرانا ملک ہزاروں سال پرانی قوم سے نفرت کرے،یونیسکو کہاں ہے؟اس تباہی پر خاموشی نا قابل قبول ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بجلی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹے میں ایران کی بجلی کی تنصیبات ختم کر سکتا تھا لیکن ایسانہیں کیا جس پر ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا کہ پورے مشرق وسطیٰ کی بجلی بند کرنے میں 30 منٹ لگیں گے،تاریکی میں امریکی فوجیوں کو تباہ کرنا زیادہ آسان ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی دھمکی

دوسری جانب روس نے ایران پر امریکی اوراسرائیلی حملوں کو غیرذمہ دارانہ قرار دے دیا۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں محاذآرائی ختم کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، ایران کے خلاف جارحیت ختم اور مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں، ایران تنازع میں بے قابو اضافہ گہری تشویش کے باعث ہے۔

روس کی جانب سے مزید کہا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کے شہر بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو خطرہ ہے،بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دھماکے ہو رہے ہیں۔

علاوہ ازیں جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کی علاقائی سالمیت کا احترام کیاجانا چاہیے، کوئی بھی ایران میں انتشار نہیں دیکھنا چاہتا، اس مرحلے پر جنگ کو مزید نہیں بڑھنا چاہیے، ایران کے داخلی تنازعات اورہجرت کی لہر سب کو متاثرکرے گی، یورپ صرف واقعات کا مشاہدہ کرنے والافریق بن کر نہیں رہے گا ۔ 

ضرور پڑھیں