امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن ارکان کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا چکے ہیں، ایرانی ڈرون اور میزائل صلاحیت کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ ایران کی پوری بحریہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کیساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے پانچ ہزار اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے، جو اب سمندر کی تہہ میں موجود ہیں، جب انہوں نے پوچھا کہ ایرانی بحری جہازوں کو تحویل میں کیوں نہیں لیا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ انہیں ڈبونے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک مشکل ترین فوجی آپریشن ایپک فیوری دیکھ رہی ہے جو ان کے بقول آپریشن مڈنائٹ ہیمر سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا بہت تلخ تجربہ رہا، دوبارہ بات چیت ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں، امریکا نے خود مذاکرات میں اہم پیشرفت کا اعتراف کیا پھر حملہ کر دیا، مذاکرات کے 3 ادوار کے بعد خود امریکا نے کہا تھا اہم پیشرفت ہوئی ہے، امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹ امریکا اور اسرائیل کی وجہ سے ہے، ہم پر جنگ مسلط کی گئی، ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، جنگ ہم پر مسلط کی گئی، ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، ہمیں غیر قانونی جارحیت کا سامنا ہے، ہمیں اپنے دفاع کا حق ہے۔