ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین میں تاخیر کی انتظامی مسائل کی وجہ سے ہے، جن میں مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے تقریب میں شرکت کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں آج رات پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے 10 مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے خصوصی تقریب منعقد ہونا تھی۔
لیکن اب اس تقریب کو ملتوی بھی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آخری رسومات کا حتمی شیڈول مقام اور انتظامات کے طے نہ ہونے کی وجہ سے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ یہ تقریب تین روز تک جاری رہنا تھی جبکہ جنازے کے جلوس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جانا تھا۔
ایران کی اسلامی تبلیغاتی کونسل کے سربراہ حجت الاسلام محمودی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ عوام آج رات 10 بجے سے تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں مرحوم رہنما کے جسدِ خاکی کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کا فیصلہ
انہوں نے کہا تھا کہ مصلیٰ عام شہریوں کے لیے کھلا رہے گا اور لوگ بڑی تعداد میں شرکت کر کے الوداعی تقریب میں حصہ لے سکیں گے جبکہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے کے انتظامات بھی جاری ہیں اور اس حوالے سے مختلف امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کے روز اسرائیلی و امریکی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے، ایران کی کابینہ نے ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ اور 7 روزہ تعطیلات کا اعلان کیا تھا جبکہ سرکاری سطح پر مختلف تقریبات اور سرگرمیوں کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔