رپورٹس کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے ایرانی قیادت کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی، اس نے تہران میں واقع قیادت کمپاؤنڈ میں ہونے والے ایک خفیہ اجلاس کی بروقت نشاندہی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کو اس اجلاس کی پیشگی اطلاع حاصل تھی اور خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کے بعد اسرائیل کے ساتھ مشاورت کر کے حملے کے وقت میں تبدیلی بھی کی گئی۔
مزید بتایا گیا کہ سی آئی اے کو نہ صرف خامنہ ای کے روزمرہ معمولات بلکہ ان کے ممکنہ خفیہ ٹھکانوں تک بھی رسائی حاصل ہو چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ شہید، ایران کی تصدیق
اس انکشاف نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔