
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن سے خطاب کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ٹیرف کا حساب موجودہ ٹیرف کی شرحوں اور غیر مالیاتی رکاوٹوں، جیسے کرنسی میں ہیرا پھیری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، کینیڈا اور میکسیکو یونائیٹڈ سٹیٹس میکسیکو، کینیڈا معاہدے (USMCA) کے تحت اشیاء کے لیے چھوٹ کے ساتھ، 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ مشروط ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، اگر کوئی ملک شکایت کرتا ہو، چاہتا ہو کہ ٹیرف ریٹ صفر کر دیا جائے تو پھر اسے اپنی مصنوعات امریکا میں تیار کرنا ہوں گی، کیوں کہ یہاں کوئی ٹیرف نہیں، امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف لگائے گا۔
انہوں نے کہا جوابی ٹیرف کا اعلان امریکا کے لیے اچھا ہوگا، ہم امریکا کا سنہری دور واپس لارہے ہیں، نئے محصولات اقتصادی آزادی کا اعلان ہیں، جنوبی ایشیائی ممالک پر اس شرح سے ٹیرف عائد کئے گئے ہیں، پاکستان پر 29 فیصد، بھارت پر 26 فیصد، بنگلہ دیش پر 37 فیصد، سری لنکا پر 44 فیصد، نیپال پر 10 فیصد، بھوٹان پر 10 فیصد، مالدیپ پر 10 فیصد، افغانستان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
سب سے زیادہ ٹیرف لیسوتھو (50 فیصد)، سینٹ پیئر اور میکیلون (50 فیصد) اور کمبوڈیا (49 فیصد) پر عائد کیے گئے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ممالک کو 20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔ دیگر کلیدی شرحوں میں سے چین پر 34 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، یورپی یونین پر 20 فیصد، برطانیہ پر 10 فیصد، برازیل پر 10 فیصد، سعودی عرب پر 10 فیصد، ترکی پر 10 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے دنیا بھر میں تجارتی تناؤ بڑھے گا، متاثرہ ممالک کی جانب سے جوابی اقدامات کا امکان ہے۔