
اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے بابرکت موقع پر میں پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ دن ہمیں خوشی، شکر گزاری، اخوت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں تقویٰ، صبر اور قربانی کی جو تربیت ہمیں ملی ہمیں چاہیے کہ اسے اپنی زندگیوں میں رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں اور اسلامی اصولوں پر کاربند رہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے خطرات لاحق ہیں، ہمیں ہر قسم کی انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت سے بچنا ہو گا،ملک کی سالمیت اور استحکام کے لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا،معیشت، معاشرت اور قومی یکجہتی کو مستحکم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان اس وقت ملک کی اقتصادی بحالی، امن و امان کے قیام اور سماجی استحکام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے،ہمیں چاہیے کہ ہم متحد ہو کر اپنے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں،پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ایک جنگ سے گزر رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری پاک فوج کے افسران اور جوان اس ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں،آج کے دن ہم اُن تمام شہدا کی بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں،آج کے دن ہم جعفر ایکسپریس کے سانحہ کے شہیدوں کے لئے بھی دعاگو ہیں کہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ان مظلوم بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو ظلم و بربریت کا شکار ہیں، خاص طور پر فلسطین اور بھارتی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام جو آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں،پاکستان ہمیشہ اُن کے ساتھ کھڑا ہے اور رہے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو چاہیے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے اور ان بے گناہ مسلمانوں کی داد رسی کرے۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عید کی خوشیوں میں اپنے کمزور اور ضرورت مند بہن بھائیوں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو شریک کریں، ان کی مدد کریں اور ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں،اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت دن کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔