اے آئی ٹیکنالوجی سے متعلق حیران کن پیشگوئی
آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے حوالے سے اکثر کہا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔
کمپیوٹر سائنسدان جیفری ہنٹن کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا گاڈ فادر قرار دیا جاتا ہے، انہوں نے 2024 میں اے آئی ٹیکنالوجی پر کیے جانے والے کام پر فزکس کا نوبیل انعام جیتا تھا۔
کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جیفری ہنٹن نے اے آئی سے ملازمتوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا انتباہ کیا ہے۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ اے آئی کے نتیجے میں بیروزگاری بڑے پیمانے پر عام اور کروڑوں افراد روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔ کمپنیوں کی جانب سے اے آئی انفرا اسٹرکچر بشمول ڈیٹا سینٹرز اور چپس پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ آٹومیشن کو بہتر بنایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے 6 اضلاع میں اساتذہ کی ڈیجیٹل حاضری کا نظام نافذ
انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے اس سرمایہ کاری پر منافع حاصل کرنے کے لیے ایسے اے آئی سسٹمز فروخت کیے جائیں گے جو کم لاگت میں ایسے کام خود کرسکیں گے جو ابھی انسانی ورکرز کرتے ہیں۔ منافع کے حصول کی خواہش کے باعث اے آئی ٹولز ملازمین کا متبادل بن جائیں گے۔
جیفری ہنٹن نے کہا کہ اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجی سے نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے مگر یہ تعداد اتنی نہیں ہوگی جتنے افراد ملازمتوں سے محروم ہوں گے۔
جیفری ہنٹن اس سے قبل بھی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے انتباہی پیشگوئیاں کر چکے ہیں، بلکہ ایک بار تو انہوں نے کہا تھا کہ ایسا 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بتدریج انسانیت کا خاتمہ کرسکتی ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے غیریقینی صورتحال ذہنوں کے ساتھ کھیل رہی ہے کیونکہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا، اگر آپ پوچھیں کہ آئندہ 10 برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کیسی ہوگی، تو کسی کو بھی اس کا درست اندازہ نہیں۔
اس سے قبل اگست 2025 میں ایک پوڈ کاسٹ سے بات کرتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا تھا کہ اے آئی نہ صرف اس طرح چیزوں کو سیکھ رہی ہے جو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے بلکہ ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم اسے سوئچ آف کرسکیں۔
جیفری ہنٹن کے تحقیقی کام نے مشین لرننگ کی بنیاد رکھی تھی اور یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے کمپیوٹرز کو انسانی ذہانت کی نقل کرنے میں مدد ملی، مگر وہ گزشتہ چند برسوں سے اے آئی ٹیکنالوجی کو محفوظ بنانے کی مہم چلا رہے ہیں۔