سہیل آفریدی پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں: خیبرپختونخوا پولیس

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر حراست میں ہیں/ فائل فوٹو
Updated | Published October, 12 2026 |
پشاور (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کے 8 اہم رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکرکےپی اسمبلی بابرسلیم سواتی، پی ٹی آئی کےصوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر بھی حراست میں ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنے رہنماؤں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور صوبے کے عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اس پیشرفت کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ تاہم، تمام آٹھ رہنماؤں کے نام، ان کی موجودہ مقاماتِ حراست اور ان کے خلاف کسی مخصوص قانونی کارروائی کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔

ایمرجنسی اور گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا؟

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان امن و امان، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور انتظامی اختیارات کے معاملے پر جاری اختلافات کے پس منظر میں کیا گیا۔

11 اکتوبر 2026 کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا حوالہ دیا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اس فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور مشیروں کے اختیارات گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں۔ صوبائی امور چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور صوبائی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مطلوبہ تعاون نہ ہونے کے باعث غیر معمولی آئینی اقدامات ضروری ہوگئے تھے۔

وفاقی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا۔ حکومت نے صوبائی انتظامیہ پر سکیورٹی معاملات میں ناکافی تعاون کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

تاہم، پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے صوبے کو مطلوبہ وسائل اور تعاون فراہم کرنا وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد مارچ اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

اس سیاسی بحران کا ایک اہم پس منظر پی ٹی آئی کی جانب سے سابق وزیراعظم اور پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کیا گیا احتجاجی مارچ بھی ہے۔

سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ کئی روز سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھا۔ پارٹی نے اس مارچ کے ذریعے عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

10 اکتوبر کے آس پاس مہم کے ساتویں روز سہیل آفریدی نے مردان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج سمیت کسی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرے گی جسے وہ غیر آئینی سمجھتی ہے۔

انہوں نے کارکنوں اور عوام سے عمران خان کی رہائی کے لیے باہر نکلنے کی اپیل بھی کی تھی۔ ان کے بیانات میں یہ مؤقف نمایاں تھا کہ پارٹی اپنے سیاسی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مارچ کے شرکا کا اگلا اہم پڑاؤ صوابی تھا، جہاں 12 اور 13 اکتوبر کے دوران مزید قافلوں کی آمد اور آئندہ لائحہ عمل کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی۔

پی ٹی آئی کا ردعمل

پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس اقدام کو سیاسی طور پر سنگین غلطی قرار دیا اور کہا کہ صوبے کے عوام کے انتخابی مینڈیٹ اور آئینی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن امن و امان کی صورتِ حال کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنا یا سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لینا مسائل کا حل نہیں۔

پارٹی نے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔


 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 276.93 —
🇪🇺 Euro EUR → PKR 310.14 ▼ 0.15
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 366.48 ▼ 0.22
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.72 ▼ 0.09
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.41 —
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.38 —
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 435,650 ▲ 4,895
Gold 22K Per Tola 399,345 ▲ 4,487
Gold 21K Per Tola 381,193 ▲ 4,283
Gold 18K Per Tola 326,737 ▲ 3,671
Silver Per Tola 6,309 ▲ 124
Platinum Per oz (USD) 1,692 ▲ 37.2%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 398.30 —
Diesel HSD Per Litre 266.41 —
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 330.14 —
LPG Per Kg 279.34 —
ضرور پڑھیں