پرامن لانگ مارچ ضرور ہو گا، بیرسٹر گوہر نے واضح کردیا
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اور پارلیمانی پارٹی کی ملاقاتیں ہوئیں، جس کے بعد پریس کانفرنسز بھی کی گئیں۔ معاملات کو بہتری کی طرف لے جانے کے لیے ہمیشہ مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی اور مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر انصاف نہ ملے، بات نہ سنی جائے اور مطالبات کو حل نہ کیا جائے تو صرف احتجاج نہ کرنے کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہو، ملاقاتوں اور علاج کے معاملات بھی حل نہ کیے جائیں تو حالات کیسے بہتر ہوں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشروں میں بہتری زبانی دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آتی ہے، اگر ریاست سنجیدہ ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ محسوس ہو کہ پی ٹی آئی کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ ان شاء اللہ ضرور ہوگا اور مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کی طرف آئیں گے اور شہر میں داخلے کے بعد بھی پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا۔ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا تو اسٹال لگے ہوں گے اور میلے کا سماں ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ مفاہمت کا راستہ آج بھی کھلا ہے اور رابطے بھی موجود ہیں۔ بانی چیئرمین کے خاندان کی خواتین اور پارٹی کارکنوں سے متعلق اقدامات پر تحفظات ہیں، ریاست کو اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے، موجودہ صورتحال سے ریاست اور جمہوریت کو نقصان ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ہے اور اسلام آباد بھی ہمارا ہے، ہمیں ووٹ دینے والے عوام کے راستے میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔ جب تک انصاف نہیں ملتا اور بنیادی مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔