رگوں میں دوڑتا لہو وطن
فائل فوٹو
Updated | Published September, 6 2026 |
ہے دیکھو، نہ جانے کیسا
وطن کی مرے، مٹی میں جادو
کھلتے گلاب، بن مرجھائے
دیتے رہتے ہیں خوشبو
مِٹا ہے نہ مِٹے گا
مری ارضِ پاک کا وجود
یہ رگوں میں ہے دوڑتا
یہ دلوں میں ہے محفوظ
شہیدوں کے لہو کی
اس کے رنگوں میں ہے لالی
خزاؤں کو بھلا یہاں کیوں دیکھے کوئی
نگاہوں میں بسی ہے
بہاروں سی ہریالی
رب تجھے رکھے آباد
پاکستان ۔ ۔ ۔ زندہ باد
(کاشف شمیم صدیقی)