پمز سانحہ، واقعے کے ذمہ داروں کو نہیں بخشا جائے گا، وزیر صحت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ واقعے میں 14 شہادتیں ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ ایک انتہائی دلخراش سانحہ ہے، واقعے میں جس کی بھی غلطی یا کوتاہی سامنے آئی اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں، واقعہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا، ابتدائی طور پر اے سی کے اندر سے ایک شعلہ نکلنے کی بات سامنے آئی جب کہ 6 بج کر 39 منٹ کی ویڈیو میں کمرے سے لوگوں کو نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ واقعے کے وقت 15 بچے آکسیجن پر تھے جب کہ ساتھ والے کمرے میں موجود چار بچوں کو ریسکیو کرلیا گیا، پمز ہسپتال میں ہونے والی تحقیقات سے میڈیا کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پمز ہسپتال واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار، اہم انکشافات سامنے آگئے
اُن کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم سے کچھ دیر بعد ملاقات کے لیے جائیں گے، استعفے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ ابھی جتنا کہہ سکتا تھا کہہ دیا‘۔
وفاقی وزیر صحت نے وزیراعظم کو اپنا باس قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو معطل کرنے کا اختیارا شہباز شریف کا استحقاق ہے، ہسپتال میں مسائل موجود ہیں، تاہم واقعے کی مکمل رپورٹ آئندہ دو سے تین دن میں سامنے آ جائے گی۔ رپورٹ سب کے سامنے پیش کی جائے گی اور واقعے کا جو بھی ذمہ دار ہوگا، اسے نہیں بخشا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں وزارتِ صحت کا قلمدان سنبھالے ایک سال دو ماہ ہوئے ہیں، اس لیے اگر پیپلزپارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا تو بات کسی اور سمت چلی جائے گی، حکومت واقعے کی تحقیقات کروا رہی ہے اور ذمہ داروں کا تعین رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ چند سال قبل ہسپتال کے بچوں کے وارڈ سے بچے چوری ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے تھے جس کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے اور گارڈ تعینات کرکے افراد کی چیکنگ کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
دوسری جانب اس دوران بچوں کے لواحقین نے وفاقی وزیر صحت کی میڈیا ٹاک کے دوران شدید احتجاج کرتے ہوئے سوالات اٹھائے، لواحقین نے کہا کہ ’ آپ لوگوں نے تماشا بنایا ہوا ہے‘ اور واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔