پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قاتلانہ حملے میں جاں بحق
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق عبداللہ طاہر پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ لاہور میں اپنے گھر کے قریب موجود تھے۔ اس دوران دو موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے، فائرنگ کے نتیجے میں عبداللہ طاہر شدید زخمی ہو گئے۔
ریسکیو اہلکاروں نے زخمی رہنما کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اسپتال ذرائع نے ان کی موت کی تصدیق کر دی، جس کے بعد ان کے اہل خانہ اور سیاسی ساتھیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ تفتیشی حکام نے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
ابتدائی طور پر قتل کی وجہ سامنے نہیں آ سکی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں، جلد حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں نے عبداللہ طاہر کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی حلقوں نے بھی اس افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ملک مختار اعوان انتقال کرگئے
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔