قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ شہید، ایڈیشنل سیشن جج زخمی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیشن جج مستونگ کو نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا سیکیورٹی اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حملے میں ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کیلئے کارروائی شروع کر دی، سیکیورٹی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ ججز اور وکلا کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم انتقال کرگئے
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔