غیر ملکی خواتین کا کیس: وزیراعلیٰ نے قانون کیمطابق کارروائی کی ہدایت کی: ڈی آئی جی
ڈی آئی جی آپریشنزلاہورفیصل کامران کا پولیس لائنزقلعہ گجر سنگھ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لاہور میں ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا، دو غیر ملکی لڑکیوں کی بازیابی کےلیے سیف سٹی پر کال آئی، دونوں لڑکیاں 29 جون کو اسلام آباد سے لاہورآئیں جہاں سے انہیں اغوا کیا گیا۔
فیصل کامران نے بتایا کہ لڑکی کےوالد کو بھیجی گئی تصویر سے گاڑی کا نمبر ٹریس کیا، گاڑی کہاں کہاں سے گزری،سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تمام ریکارڈ ٹریس کیاگیا، گاڑی کے نمبر سے ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش ملزمان کا تعلق سرگودھا اور دیگر علاقوں سے معلوم ہوا، سرگودھا میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، شاہدرہ، ڈیفنس اور مختلف اضلاع میں چھاپے مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ جب چھاپے مارے گئے تو وہاں سے پتہ چلا یہ ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے ، ملزم کو پتا چلا پولیس پیچھے ہے تو اس نے دونوں خواتین کو واپس بھیجنے کا کہا، دونوں غیر ملکی خواتین کو ایئرپورٹ لے جانے کا کہا۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ جاتے ہوئے گاڑی کو حادثہ ہوا، خواتین بھاگ نکلیں خواتین نے گاڑی سے بھاگ کر دکان میں پناہ لی، ملزم رضا ڈار موقع سے فرار ہو گیا، اس کی گاڑی ٹریس ہوئی، گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو ٹریس کیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ خواتین کو بازیاب کرانے کے بعد مزید تفتیش ہوتی ہے، کیس پر کام کر رہے تھے اسی لیے لڑکیوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہوئے، اسپینش سفارتخانے سے رابطہ کر کے ایک لڑکی کی تفصیل بتائی، اسپینش سفارتخانے نے بتایا لڑکی کا تعلق وینزویلا سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی خواتین سے بدسلوکی و تشدد کا کیس، مرکزی ملزم باس گرفتار
ان کا کہنا تھا کہ اسپینش سفارتخانے کے بعد ہالینڈ کے سفارتخانے سے رابطہ ہوا، سفارتخانے سے رابطے کے بعد لڑکیاں میڈیکل کرانے پر راضی ہوئیں، میڈیکل کرانے کے بعد لڑکیاں 164 کا بیان دینے پر راضی ہوئیں، سفارتخانے نے لڑکیوں کو فوری واپس بھیجنے کا کہا، دونوں لڑکیوں کا عدالت کے سامنے 164 کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔
فیصل کامران نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کا نوٹس لیا، ہمیں ہدایت ملی ہیں میرٹ پر کام ہو، اگر کسی نے غلط کام کیا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیے، دونوں غیرملکی لڑکیاں پولیس کی تحقیقات سے مطمئن ہوئیں۔